نئی دہلی:11جون،2021۔اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) بھارت کی جانب سے آج جاری ایک تجزیاتی رپورٹ میں امنگوں والے اضلاع پروگرام (اے ڈی پی) کو مقامی سیکٹر کی ترقی کا ایک نہایت کامیاب ماڈل کے طور پر سراہا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے کئی دیگر ملکوں میں بھی اسے بہترین طریقہ کار کے طور پر اپنایا جاناچاہئے جہاں متعدد وجوہات سے ترقی میں علاقائی عدم مساوات میں موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے ڈی پی کے تحت کی گئی ٹھوس کوششوں کے سبب پہلے سے نظرانداز کیے گئے اضلاع جن میں دور دراز کے ضلع اور بائیں بازو کی انتہاپسندی سے متاثرہ اضلاع شامل ہیں، میں پچھلے تین برسوں کے دوران پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ اپنے سفر کی کچھ رکاوٹوں کے باوجود اے پی ڈی پسماندہ ضلعوں کے درمیان ترقی کو بڑھاوا دینے میں بیحد کامیاب رہاہے۔

یو این ڈی پی انڈیا ریزیڈنٹ ری پرزنٹیٹیو شوکو نوڈا نے آج یہ رپورٹ نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار اورسی ای او امیتابھ کانت کو سونپی۔ اس میں امنگوں والے اضلاع پروگرام کی پیش رفت پر دھیان مرکوز کیا گیا ہے اور اصلاحات کیلئے سفارشات کی گئی ہیں۔ یہ رپورٹ عوامی طور سے دستیاب اعدادوشمار کے مقداری تجزیے کے ساتھ ساتھ مختلف اسٹیک ہولڈرس کے انٹرویوز پر مبنی ہے جس میں ضلع کلکٹر، مرکزی پربھاری آفیسرس، ضلع کے معاون افسران اور دیگر ترقیاتی پارٹنر شامل ہیں۔

یو این ڈی پی کایہ تجزیہ اےڈی پی کے پانچ کلیدی سیکٹروں پر مبنی ہے جن میں صحت اور تغذیہ ، تعلیم ،زراعت اور آبی وسائل، بنیاد ی ڈھانچہ اور ہنرمندی کافروغ اور مالیاتی شمولیت شامل ہیں۔ مطالعے میں پایا کہ اس پروگرام نے ان ضلعوں میں ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے محرک کا کام کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاں صحت اور تغذیہ ، تعلیم اور کچھ حد تک زراعت اور آبی وسائل جیسے سیکٹروں میں بڑے پیمانے پر نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، وہیں اہم پیش رفت کے باوجود دیگر انڈیکیٹر کہیں اور زیادہ مضبوطی کی گنجائش کو ظاہر کرتے ہیں۔

امنگوں والے اضلاع اور انکے ہم منصبوں کے درمیان موازنے پر پایا گیا کہ غیرمتوقع اضلاع کے مقابلے متوقع اضلاع نے بہتر کارکردگی کامظاہرہ کیاہے۔ صحت اورتغذیہ اورمالیاتی شمولیت کے شعبوں میں رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ گھروں پر ہونے والی زچگی کے 9.6 فیصد سےزیادہ معاملات میں ایک ہنرمند تولیدی ملازم نے شرکت کی۔ شدید انیما والی 5.8 فیصد زیادہ حاملہ خواتین کا علاج کیا گیا، ڈائریا سے متاثرہ 4.8 فیصد زیادہ بچوں کاعلاج کیا گیا۔ 4.5فیصدزیادہ حاملہ خواتین نے اپنے پہلے 3 مہینے میں زچگی سے قبل دیکھ بھال کیلئے رجسٹریشن کروایا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا اور پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت بالترتیب 406 او ر847 زیادہ رجسٹریشن ہوئے اور فی ایک لاکھ آبادی پر 1580 زیادہ کھاتے کھولے گئے۔ یو این ڈی پی نے بیجا پور اور دتنے واڑہ میں ’ملیریا مکت بستر ابھیان‘ کی بھی تعریف کی ہے جس سے ان ضلعوں میں ملیریا کے معاملات میں بالترتیب 71 فیصد اور 54 فیصد کی کمی آئی ہے، اسے امنگوں والے اضلاع کاایک بہترین طریقہ کار قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ضلعوں نے یہ بھی تسلیم کیاہے کہ صحت اور تغذیہ پروگراموں پر لگاتار دھیان مرکوز کرنے سے انہیں کہیں زیادہ آسانی سے کووڈ بحران سے نمٹنے میں مدد ملی ہے۔ مثال کے طور پر اڈیشہ کے ملکان گری ضلع کو ہی لیتے ہیں جو چھتیس گڑھ او رآندھراپردیش جیسی ہمسایہ ریاستوں کے قریب واقع ہے، لاک ڈاؤن کے شروعاتی مرحلے کے دوران ریاست میں واپس لوٹنے والے کئی مائیگرینٹ ورکروں کیلئے یہ ایک داخلے کا مقام بن گیا تھا۔ ضلع کے افسران نے دعویٰ کیا کہ اُن مائیگرینٹ ورکروں کو قرنطینہ میں رکھنے کیلئے نئے بنیادی ڈھانچے کااستعمال ادارہ جاتی قرنطینہ مراکز کے طور پر کیا گیا۔

اس پہل کی کامیابی کا سہرا بنیادی طور پر ریئل ٹائم نگرانی کے اعداد وشمار، سرکاری پروگراموں اور اسکیموں کو ایک ساتھ کرنے اور امنگوں والے اضلاع پروگرام کے زبردست فائدے کو دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس پروگرام کے تحت مقاصد اور اہداف کو حاصل کرنے کیلئے مرکزی اور مقامی حکومتوں ، ترقیاتی شراکت داروں اور شہریوں سمیت سبھی اسٹیک ہولڈرس کو اکٹھا کرنے کی اس کی انوکھی اشتراک کی نوعیت پر بھی غور کیا گیا ہے۔ یہی وہ اہم ستون ہے جس نے ضلع کمشنروں کو ایک مضبوط کووڈ -19 ردعمل کاطریقہ کار مرتب کرنے اوراپنے اپنے اضلاع میں پنچایتوں ، مذہبی اور برادری کے رہنماؤں اور ترقیاتی پارٹنرس کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس عالمی وبا کے چیلنجوں سے نمٹنے میں اہل بنایا۔

رپورٹ میں اس پروگرام کے تئیں وزیراعظم نریندر مودی سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کی طرف سے دکھائی گئی قابل ذکر عہدبستگی کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ سال 2018 میں اس پروگرام کے آغاز کے بعد سے ہی وزیراعظم نے لگاتار ضلع سطح پر اپنی بہترین کارکردگی کرنے کیلئے ضلع کلکٹروں کی مسلسل حوصلہ افزائی کی ہے۔

اے ڈی پی نقطہ نظر کے 3سی’کنورجینس ، کمپٹیشن اور کولیبریشن‘ یعنی کنورجینس، مسابقت اور تعاون کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر انٹرویو لینے والوں نے کنورجینس کی اہمیت پر زور دیا جو پروگرام کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے سنکرونائزڈ پلاننگ اور گورننس کی سمت میں ساتھ ملکر کام کرنے کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اسی طرح مسابقتی پہلو کو بھی اس پروگرام کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے بہتر نگرانی اور صحتمند مقابلے کو فروغ دینے میں کافی مددگار پایا گیا۔ اس نے ضلعوں کیلئے اپنی کوششوں کو بہتر کرنے اورپیش رفت پر نظر رکھنےکیلئے ایک محرک کے طور پر کام کیا۔

اس پروگرام نے ضلعوں کی تکنیکی اور انتظامی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے۔حالانکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صلاحیت سازی پر کہیں زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے، اس میں سبھی ضلعوں میں اسپریشنل ڈسٹرکٹ فیلو اورٹیکنیکل سپورٹ یونٹ جیسے پوری طرح وقف ورکروں کی تقرری اور تکنیکی مہارت ، ہنرمندی کی تربیت وغیرہ فراہم کرنےکیلئے ترقیاتی پارنٹرس کے ساتھ اشتراک وتعاون کرناشاملہے۔

رپورٹ میں اس پروگرام کے چمپئنس آف چینج ڈیش بورڈ پر فراہم کردہ ڈیلٹا رینکنگ کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ اس کے ذریعے مسابقتی اور متحرک ثقافت کو فروغ دیا گیا ہے جس نے پچھلے تین برسوں میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ناقص کارکردگی کامظاہرکرنے والے کئی اضلاع (بیس لائن رینکنگ کے مطابق) کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ سمڈیگا (جھارکھنڈ)، چندولی (اترپردیش)، سون بھدر (اترپردیش) اور راج گڑھ (مدھیہ پردیش)اس پروگرام کی شروعات کے بعد سب سے زیادہ ترقی کرنے والے اضلاع میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں اس پروگرام کے تحت شروع کیے گئے کئی اقدامات کو بہترین طریقہ کار قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ایک قابل ذکر اقدام ہے گول مارٹ، یہ ایک ای۔کامرس پورٹل ہے جسے آسام کے گول پارا ضلع انتظامیہ کے ذریعے شروع کیا گیا تھا تھاکہ ضلع کے دیہی ، برادری اور زرعی پروڈکٹس کو قومی اور بین الاقوامی بازاروں میں بڑھاوا دیا جاسکے۔ اس پہل نے،خاص طور پر کووڈ-19 کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران کافی مددگار ثابت ہوئی۔ کیوں کہ اس نے کسانوں اور خردہ فروخت کنندگان کو آف لائن دکانوں کے چنگل سے آزاد کردیا۔ گول پارا کا کالا چاول اس پورٹل پر پسندیدہ پروڈکٹ ہے اور یہ کسانوں کیلئے کافی فائدے مند بھی ثابت ہوا ہے۔ اسی طرح اترپردیش کے چندولی ضلع نے عالمی بازاروں میں کالے چاول کی زبردست مانگ اور اچھے منافع مارجن کو دیکھتےہوئے اس کی کھیتی کے ساتھ استعمال کرنے کا فیصلہ لیا۔ یہ منصوبہ کامیاب رہا اور اب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو اعلیٰ معیار کے کالے چاول کو برآمدات کیا جاتا ہے۔

جہاں تک چیلنجوں اور تجاویز کا سوال ہے تو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ اسٹیک ہولڈرز نے ایسے کچھ انڈیکیٹرس کی اصلاح کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہےجنہیں زیادہ تر ضلعوں کے ذریعے پورا کرلیا گیا ہے یا پورا ہونے کے قریب ہے۔ مثال کے طور پر بنیادی ڈھانچے کے انڈیکیٹر کے طور پر گھروں کی بجلی کاری وغیرہ ۔ یہ بھی پایا گیا کہ اوسطاً ضلعوں میں لچیلا پن میں اضافہ اورکمزوریوں میں کمی دیکھی گئی ہے لیکن سب سے کم سدھار والے ضلعوں میں کمزوریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے لئے ان شعبوں پر خصوصی دھیان دینے کی ضرورت ہے جہاں ان ضلعوں نے ناقص کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امنگوں والے اضلاع پروگرام کو کسی کو بھی پیچھے نہ چھوڑنے کے اصول کی بنیاد پر تیار کیا ہے جو پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کی اہم بنیاد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح پر سیاسی عہدبستگی کے نتیجے میں اس پروگرام کو تیزی سے کامیابی ملی ہے۔

کُل ملاکر رپورٹ میں اس پروگرام کے مثبت اثر ات کی تعریف کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ ترقی پر دھیان مرکوز کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اب تک حاصل ترقی کی رفتار کو قائم رکھا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجزیے کے نتائج کی بنیاد پر یہ سفارش کی جاتی ہے کہ اس پروگرام کی کامیابی کو آگے بڑھایا جائے اور دیگر سیکٹروں اور ضلعوں میں بھی اسے دوہرایا جائے۔

وزیراعظم کے ذریعے جنوری 2018 میں امنگوں والے اضلاع پروگرام کو شروع کیا گیا تھا ، شہریوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے اور سبھی کیلئے جامع ترقی ، ’ سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ یقینی بنانے کیلئے حکومت کی کوشش کے تحت اس کی شروعات ہوئی تھی۔

رپورٹ یہاں ڈاؤن لوڈ کریں۔

Explore More
وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن

Popular Speeches

وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن
Snacks, Laughter And More, PM Modi's Candid Moments With Indian Workers In Kuwait

Media Coverage

Snacks, Laughter And More, PM Modi's Candid Moments With Indian Workers In Kuwait
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Joint Statement: Official visit of Shri Narendra Modi, Prime Minister of India to Kuwait (December 21-22, 2024)
December 22, 2024

At the invitation of His Highness the Amir of the State of Kuwait, Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah, Prime Minister of India His Excellency Shri Narendra Modi paid an official visit to Kuwait on 21-22 December 2024. This was his first visit to Kuwait. Prime Minister Shri Narendra Modi attended the opening ceremony of the 26th Arabian Gulf Cup in Kuwait on 21 December 2024 as the ‘Guest of Honour’ of His Highness the Amir Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah.

His Highness the Amir of the State of Kuwait Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah and His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Sabah Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah, Crown Prince of the State of Kuwait received Prime Minister Shri Narendra Modi at Bayan Palace on 22 December 2024 and was accorded a ceremonial welcome. Prime Minister Shri Narendra Modi expressed his deep appreciation to His Highness the Amir of the State of Kuwait Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah for conferring on him the highest award of the State of Kuwait ‘The Order of Mubarak Al Kabeer’. The leaders exchanged views on bilateral, global, regional and multilateral issues of mutual interest.

Given the traditional, close and friendly bilateral relations and desire to deepen cooperation in all fields, the two leaders agreed to elevate the relations between India and Kuwait to a ‘Strategic Partnership’. The leaders stressed that it is in line with the common interests of the two countries and for the mutual benefit of the two peoples. Establishment of a strategic partnership between both countries will further broad-base and deepen our long-standing historical ties.

Prime Minister Shri Narendra Modi held bilateral talks with His Highness Sheikh Ahmad Abdullah Al-Ahmad Al-Jaber Al-Mubarak Al-Sabah, Prime Minister of the State of Kuwait. In light of the newly established strategic partnership, the two sides reaffirmed their commitment to further strengthen bilateral relations through comprehensive and structured cooperation in key areas, including political, trade, investment, defence, security, energy, culture, education, technology and people-to-people ties.

The two sides recalled the centuries-old historical ties rooted in shared history and cultural affinities. They noted with satisfaction the regular interactions at various levels which have helped in generating and sustaining the momentum in the multifaceted bilateral cooperation. Both sides emphasized on sustaining the recent momentum in high-level exchanges through regular bilateral exchanges at Ministerial and senior-official levels.

The two sides welcomed the recent establishment of a Joint Commission on Cooperation (JCC) between India and Kuwait. The JCC will be an institutional mechanism to review and monitor the entire spectrum of the bilateral relations between the two countries and will be headed by the Foreign Ministers of both countries. To further expand our bilateral cooperation across various fields, new Joint Working Groups (JWGs) have been set up in areas of trade, investments, education and skill development, science and technology, security and counter-terrorism, agriculture, and culture, in addition to the existing JWGs on Health, Manpower and Hydrocarbons. Both sides emphasized on convening the meetings of the JCC and the JWGs under it at an early date.

Both sides noted that trade has been an enduring link between the two countries and emphasized on the potential for further growth and diversification in bilateral trade. They also emphasized on the need for promoting exchange of business delegations and strengthening institutional linkages.

Recognizing that the Indian economy is one of the fastest growing emerging major economies and acknowledging Kuwait’s significant investment capacity, both sides discussed various avenues for investments in India. The Kuwaiti side welcomed steps taken by India in making a conducive environment for foreign direct investments and foreign institutional investments, and expressed interest to explore investment opportunities in different sectors, including technology, tourism, healthcare, food-security, logistics and others. They recognized the need for closer and greater engagement between investment authorities in Kuwait with Indian institutions, companies and funds. They encouraged companies of both countries to invest and participate in infrastructure projects. They also directed the concerned authorities of both countries to fast-track and complete the ongoing negotiations on the Bilateral Investment Treaty.

Both sides discussed ways to enhance their bilateral partnership in the energy sector. While expressing satisfaction at the bilateral energy trade, they agreed that potential exists to further enhance it. They discussed avenues to transform the cooperation from a buyer-seller relationship to a comprehensive partnership with greater collaboration in upstream and downstream sectors. Both sides expressed keenness to support companies of the two countries to increase cooperation in the fields of exploration and production of oil and gas, refining, engineering services, petrochemical industries, new and renewable energy. Both sides also agreed to discuss participation by Kuwait in India's Strategic Petroleum Reserve Programme.

Both sides agreed that defence is an important component of the strategic partnership between India and Kuwait. The two sides welcomed the signing of the MoU in the field of Defence that will provide the required framework to further strengthen bilateral defence ties, including through joint military exercises, training of defence personnel, coastal defence, maritime safety, joint development and production of defence equipment.

The two sides unequivocally condemned terrorism in all its forms and manifestations, including cross-border terrorism and called for disrupting of terrorism financing networks and safe havens, and dismantling of terror infrastructure. Expressing appreciation of their ongoing bilateral cooperation in the area of security, both sides agreed to enhance cooperation in counter-terrorism operations, information and intelligence sharing, developing and exchanging experiences, best practices and technologies, capacity building and to strengthen cooperation in law enforcement, anti-money laundering, drug-trafficking and other transnational crimes. The two sides discussed ways and means to promote cooperation in cybersecurity, including prevention of use of cyberspace for terrorism, radicalisation and for disturbing social harmony. The Indian side praised the results of the fourth high-level conference on "Enhancing International Cooperation in Combating Terrorism and Building Resilient Mechanisms for Border Security - The Kuwait Phase of the Dushanbe Process," which was hosted by the State of Kuwait on November 4-5, 2024.

Both sides acknowledged health cooperation as one of the important pillars of bilateral ties and expressed their commitment to further strengthen collaboration in this important sector. Both sides appreciated the bilateral cooperation during the COVID- 19 pandemic. They discussed the possibility of setting up of Indian pharmaceutical manufacturing plants in Kuwait. They also expressed their intent to strengthen cooperation in the field of medical products regulation in the ongoing discussions on an MoU between the drug regulatory authorities.

The two sides expressed interest in pursuing deeper collaboration in the area of technology including emerging technologies, semiconductors and artificial intelligence. They discussed avenues to explore B2B cooperation, furthering e-Governance, and sharing best practices for facilitating industries/companies of both countries in the policies and regulation in the electronics and IT sector.

The Kuwaiti side also expressed interest in cooperation with India to ensure its food-security. Both sides discussed various avenues for collaboration including investments by Kuwaiti companies in food parks in India.

The Indian side welcomed Kuwait’s decision to become a member of the International Solar Alliance (ISA), marking a significant step towards collaboration in developing and deploying low-carbon growth trajectories and fostering sustainable energy solutions. Both sides agreed to work closely towards increasing the deployment of solar energy across the globe within ISA.

Both sides noted the recent meetings between the civil aviation authorities of both countries. The two sides discussed the increase of bilateral flight seat capacities and associated issues. They agreed to continue discussions in order to reach a mutually acceptable solution at an early date.

Appreciating the renewal of the Cultural Exchange Programme (CEP) for 2025-2029, which will facilitate greater cultural exchanges in arts, music, and literature festivals, the two sides reaffirmed their commitment on further enhancing people to people contacts and strengthening the cultural cooperation.

Both sides expressed satisfaction at the signing of the Executive Program on Cooperation in the Field of Sports for 2025-2028. which will strengthen cooperation in the area of sports including mutual exchange and visits of sportsmen, organising workshops, seminars and conferences, exchange of sports publications between both nations.

Both sides highlighted that education is an important area of cooperation including strengthening institutional linkages and exchanges between higher educational institutions of both countries. Both sides also expressed interest in collaborating on Educational Technology, exploring opportunities for online learning platforms and digital libraries to modernize educational infrastructure.

As part of the activities under the MoU between Sheikh Saud Al Nasser Al Sabah Kuwaiti Diplomatic Institute and the Sushma Swaraj Institute of Foreign Service (SSIFS), both sides welcomed the proposal to organize the Special Course for diplomats and Officers from Kuwait at SSIFS in New Delhi.

Both sides acknowledged that centuries old people-to-people ties represent a fundamental pillar of the historic India-Kuwait relationship. The Kuwaiti leadership expressed deep appreciation for the role and contribution made by the Indian community in Kuwait for the progress and development of their host country, noting that Indian citizens in Kuwait are highly respected for their peaceful and hard-working nature. Prime Minister Shri Narendra Modi conveyed his appreciation to the leadership of Kuwait for ensuring the welfare and well-being of this large and vibrant Indian community in Kuwait.

The two sides stressed upon the depth and importance of long standing and historical cooperation in the field of manpower mobility and human resources. Both sides agreed to hold regular meetings of Consular Dialogue as well as Labour and Manpower Dialogue to address issues related to expatriates, labour mobility and matters of mutual interest.

The two sides appreciated the excellent coordination between both sides in the UN and other multilateral fora. The Indian side welcomed Kuwait’s entry as ‘dialogue partner’ in SCO during India’s Presidency of Shanghai Cooperation Organisation (SCO) in 2023. The Indian side also appreciated Kuwait’s active role in the Asian Cooperation Dialogue (ACD). The Kuwaiti side highlighted the importance of making the necessary efforts to explore the possibility of transforming the ACD into a regional organisation.

Prime Minister Shri Narendra Modi congratulated His Highness the Amir on Kuwait’s assumption of the Presidency of GCC this year and expressed confidence that the growing India-GCC cooperation will be further strengthened under his visionary leadership. Both sides welcomed the outcomes of the inaugural India-GCC Joint Ministerial Meeting for Strategic Dialogue at the level of Foreign Ministers held in Riyadh on 9 September 2024. The Kuwaiti side as the current Chair of GCC assured full support for deepening of the India-GCC cooperation under the recently adopted Joint Action Plan in areas including health, trade, security, agriculture and food security, transportation, energy, culture, amongst others. Both sides also stressed the importance of early conclusion of the India-GCC Free Trade Agreement.

In the context of the UN reforms, both leaders emphasized the importance of an effective multilateral system, centered on a UN reflective of contemporary realities, as a key factor in tackling global challenges. The two sides stressed the need for the UN reforms, including of the Security Council through expansion in both categories of membership, to make it more representative, credible and effective.

The following documents were signed/exchanged during the visit, which will further deepen the multifaceted bilateral relationship as well as open avenues for newer areas of cooperation:● MoU between India and Kuwait on Cooperation in the field of Defence.

● Cultural Exchange Programme between India and Kuwait for the years 2025-2029.

● Executive Programme between India and Kuwait on Cooperation in the field of Sports for 2025-2028 between the Ministry of Youth Affairs and Sports, Government of India and Public Authority for Youth and Sports, Government of the State of Kuwait.

● Kuwait’s membership of International Solar Alliance (ISA).

Prime Minister Shri Narendra Modi thanked His Highness the Amir of the State of Kuwait for the warm hospitality accorded to him and his delegation. The visit reaffirmed the strong bonds of friendship and cooperation between India and Kuwait. The leaders expressed optimism that this renewed partnership would continue to grow, benefiting the people of both countries and contributing to regional and global stability. Prime Minister Shri Narendra Modi also invited His Highness the Amir of the State of Kuwait, Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah, Crown Prince His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Sabah Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah, and His Highness Sheikh Ahmad Abdullah Al-Ahmad Al-Jaber Al-Mubarak Al-Sabah, Prime Minister of the State of Kuwait to visit India.