ڈیجیٹل طور پر بااختیار نوجوان اس دہائی کو 'انڈیا کا ٹیک ایڈ' بنائیں گے: وزیر اعظم
ڈیجیٹل انڈیاخودکفیل بھارت بننے کا سب سے اہم آلہ ہے: وزیر اعظم
ڈیجیٹل انڈیا کا مطلب تیز منافع ، پورا منافع ، ڈیجیٹل انڈیا کا مطلب کم سے کم حکومت ، زیادہ سے زیادہ حکمرانی ہے: وزیر اعظم
کوروناکے اس دور میں ہندوستان کے ذریعہ دی گئی ڈیجیٹل سالیوشن نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کروائی ہے: وزیر اعظم
10 کروڑ سے زائد کسان کنبوں کے کھاتے میں 1.35 لاکھ کروڑ روپے جمع کرائے گئے: وزیر اعظم
ڈیجیٹل انڈیا نے ون نیشن - ون ایم ایس پی کی حقانیت کو محسوس کیا ہے: وزیراعظم

مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جناب روی شنکر پرساد جی، جناب سنجے دھوترے جی، ڈیجیٹل انڈیا کے الگ الگ فارمیٹ سے جڑے میرے تمام ساتھیوں، بھائیوں اور بہنوں! ڈیجیٹل انڈیا مہم کے 6 سال پورے ہونے پر آپ تمام ہی حضرات کو بہت بہت مبارکباد!

آج کا دن ہندوستان کی لیاقت و استعداد، ہندوستان کے عزم اور مستقبل کے شانداراور لامحدود امکانات  کے لیے وقف ہے۔ آج کایہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بحیثیت قوم ، ہم نے 5-6 سالوں میں ڈیجیٹل اسپیس میں بہت بڑی چھلانگ لگائی ہے۔

ساتھیوں!

یہ پورے ملک کا خواب ہے کہ ہندوستان کو تیز رفتاری کے ساتھ  ڈیجیٹل راہ پر آگے لے جاکر ملک کے  ہر شہری کی زندگی آسان بنائی جائے۔ ہم سب اس کو پورا کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ ملک میں آج ایک طرف جدت طرازی اور اختراعات کا جنون ہے تو دوسری طرف ان اختراعات کو تیزی سے اپنانے کاجذبہ بھی ہے۔ لہذا ، ڈیجیٹل انڈیا ہندوستان کا عزم ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا خود کفیل بھارت کی سادھنا ہے ، ڈیجیٹل انڈیا 21 ویں صدی میں ہندوستان کے مضبوط و طاقتور  ہونے کا بین ثبوت ہے۔

ساتھیوں!

کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ حکمرانی کے اصول پر چلتے ہوئے ، حکومت اور عوام کے درمیان، سسٹم اور سہولیات کے مابین،مسائل اور خدمات کے درمیان حائل خلا کو کم کرنا ہے، ان کے درمیان حائل مشکلات کو ختم کرنا ہے اور عوام الناس کو زیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچانا ہے۔ یہ وقت کا تقاضہ  ہے اور اسی لیے ڈیجیٹل انڈیا عام شہری کو سہولیات اور انہیں مضبوط بنانے کا ایک بہت بڑا وسیلہ ہے۔

ساتھیوں!

ڈیجیٹل انڈیا نے یہ کیسے ممکن بنایا ہے، اس کی شاندار مثال ہے۔ – ڈیجی کالر۔ اسکول کے سرٹیفیکیٹ، کالج کی ڈگری، ڈرائیونگ لائسنس،پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا دیگر دستاویزات کو سنبھال کر رکھنا ہمیشہ سے لوگوں کے لیے بہت فکرمندی کی بات رہی ہے۔ کئی بار سیلاب میں، زلزلے میں، کہیں آتشزدگی کی وجہ سے ، سونامی میں لوگوں کے ضروری شناختی کارڈز تباہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن اب 10ویں،12ویں، کالج، یونیورسٹی کی مارک شیٹ سے لے کر دیگر تمام دستاویزات سیدھے ڈیجی لاکر میں آسانی کے ساتھ محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔ ابھی کورونا کے اس بحران میں ، کئی شہروں کے کالج، داخلے کے لیے اسکول سرٹیفیکیٹس کا ویریفیکیشن، ڈی جی لاکرکی مدد سے ہی کر رہے ہیں۔

ساتھیوں!

ڈرائیونگ لائسنس ہو، برتھ سرٹیفیکیٹ ہو، بجلی کا بل ادا کرنا ہو، پانی کے بلوں کی ادائیگی کرنی ہو، انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا ہو، اس طرح کے کئی کاموں کے لیے طریقے بدل گئے ہیں۔ اب ڈیجیٹل انڈیا کی مدد سے یہ  بہت آسان   اور تیزہو گئے ہیں۔ اور گاؤں میں تو یہ سب، اب اپنے گھر کے پاس سی ایس سی سنٹر میں بھی ہو رہا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا نے غریبوں کو ملنے والے راشن کی ڈیلیوری کو بھی آسان کیا ہے۔

یہ ڈیجیٹل انڈیا کی ہی طاقت ہے کہ ون نیشن – ون راشن کارڈ کا عزم مکمل ہو رہا ہے۔ اب دوسری ریاستوں میں جانے سے نیا راشن کارڈ نہیں بنانا ہوگا۔ ایک ہی راشن کارڈ کو پورے ملک میں تسلیم کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان مزدور خاندانوں کو ہو رہا ہے جو کام کے لیے دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ ابھی میری ایک ایسے ہی ساتھی کے ساتھ بات بھی ہوئی ہے۔

حال میں ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ  نے اس تعلق سے ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ کچھ ریاستیں ہیں جو اس بات کو نہیں تسلیم کرتی تھیں۔ آخر کار سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ جن ریاستوں نے اب تک ون نیشن – ون راشن کارڈوالی بات نہیں مانی ہے، وہ فوراً اسے نافذ کریں۔ سپریم کورٹ کو بھی فیصلہ دینا پڑا۔ انہیں بھی اس منصوبے کو نافذ کرنے کو کہا گیا ہے۔میں اس فیصلے کے لیے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کیوں کہ یہ غریبوں کے لیے ہے، مزدوروں کے لیے ہے۔ اپنی جگہ سے جنہیں باہر جانا پڑ رہا ہے ان کے لیے ہے۔ اور اگر حساسیت ہے تو ایسے کام کو فوراً ہی ترجیح ملتی ہے۔

ساتھیوں!

ڈیجیٹل انڈیا، خود کفیل بھارت کے عزم کو مضبوطی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا، ان لوگوں کو بھی سسٹم سے جوڑ رہا ہے جنہوں نے کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ابھی کچھ اور مستفیدین سے میں نے بات کی ہے۔ وہ بہت فخر اور اطمینان کے ساتھ بتا رہے تھے کہ ڈیجیٹل حل سے کیسے ان کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے۔

خوانچہ فروشوں کے کب سوچا تھا کہ وہ بینکنگ سسٹم سے جڑیں گے اور ان کو بھی بینک سے آسان اور سستا قرض ملے گا۔ لیکن آج سونیدھی اسکیم سے یہ ممکن ہو رہا ہے۔ گاؤں میں مکانوں اور زمینوں سے جڑے تنازعات اور عدم تحفظ کی خبریں اکثر سننے کو ملتی رہی ہیں۔لیکن اب سوامتوا اسکیم کے تحت گاؤں کی زمینوں کی ڈرون میپنگ کی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل طریقے سے گاؤں میں رہنے والوں کو ان کے گھر کو قانونی طور پر تحفظ فراہم کرنے والے دستاویز مل رہے ہیں۔ آن لائن تعلیم سے لے کر دواؤں تک کے لیے جو پلیٹ فارم ڈیولپ کیے گئے ، ان سے ملک کے کروڑوں ساتھ آج فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ساتھیوں!

دور دراز علاقوں تک صحت کی سہولیات کو پہنچانے میں بھی ڈیجیٹل انڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تھوڑی دیر قبل بہار کے ساتھ نے مجھے بتایا کہ ای –سنجیونی نے کیسے اس مشکل وقت میں گھر بیٹھے ہی ان کی دادی کے صحت کی فکر کی۔ ہر فرد کو علاج و معالجہ کی سہولت فراہم ہو، یہ ہماری ترجیح ہے۔ اس کے لیے نیشنل ڈیجیتل ہیلتھ مشن کے تحت ایک موثر پلیٹ فارم پر بھی کام چل رہا ہے۔

کورونا  کے اس دور میں جو ڈیجٹل حل بھارت نے تیار کیے ہیں، وہ آج پوری دنیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور اس میں لوگوں کی دلچسپی بھی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کانٹیکٹنگ  ٹریسنگ ایپ میں سے ایک، آروگیہ سیتو سے کورونا کے انفیکشن کو روکنے میں بہت مدد ملی ہے۔ ٹیکہ کاری کے لیے بھارت کے کو-ون ایپ میں بھی آج کئی ملکوں نے دلچسپی کا مظاہر ہ کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ملک میں اس منصوبے کا فائدہ ملے۔ ٹیکہ کاری مہم کے دوران ایسا مانیٹرنگ ٹول ہونا ہماری مہارت کا واضح ثبوت ہے۔

ساتھیوں!

کووڈ کے اس دور میں ہم نے محسوس کیا ہے کہ ڈیجیتل انڈیا نے ہمارے کام کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔ آج تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی پہاڑوں سے، کوئی گاؤں میں بنے ہوم اسٹے سے، اپنا کام کر رہا ہے۔ تصور کیجیئے، یہ ڈیجیٹل رابطہ نہیں ہوتا تو کورونا کے اس بحران میں کیا حالت ہوتی؟کچھ لوگ ڈیجیٹل انڈیا کی کوششوں کو صرف غریب سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ لیکن اس مہم نے مڈل کلا س اور نوجوانوں کی زندگی بھی بدل دی ہے۔

اور ہمارے یہ آج کل کے یہ ملینیلس، اگر آج یہ ساری دنیا نہ ہوتی، ٹکنالوجی نہ ہوتی تو ان کی کیا حالت ہوتی؟سستے اسمارٹ فون کے بغیر، سستے انٹرنیٹ اور سستے ڈیٹا کے، ان روز مرہ کے معمولات میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا۔ اس لیے میں کہتا ہوں ڈیجیٹل انڈیا یعنی سب کو مواقع، سب کو سہولت، سب کی شراکت داری۔ ڈیجیٹل انڈیا یعنی سرکاری سسٹم تک ہر فرد کی رسائی۔ڈیجیٹل انڈیا یعنی شفاف، بھید بھاؤ سے پاک سسٹم اور بدعنوانی پر چوٹ۔ ڈیجیٹل انڈیا یعنی وقت، مزدوری اور پیسے کی بچت۔ ڈیجیٹل انڈیا یعنی تیزی سے فائدہ، پورا فائدہ۔ ڈیجیٹل انڈیا یعنی کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ حکمرانی۔

ڈیجیٹل انڈیا مہم کی ایک اور خاص بات رہی کہ اس میں انفراسٹرکچر کے اسکیل اور اسپیڈ، دونوں پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ملک کے گاؤں میں تقریباً ڈھائی لاکھ کامن سروس سنٹر نے انٹرنیٹ کو وہاں بھی پہنچایا جہاں کبھی یہ بہت مشکل مانا جاتا تھا۔ بھارت-نیٹ اسکیم کے تحت گاؤں-گاؤں، براڈ بینڈ انٹرنیٹ پہنچانے کے لیے مشن موڈ پر کام چل رہا ہے۔

پی ایم – وانی اسکیم سے ، ملک بھی میں ایسے ایکسس پوائنٹ بنائے جا رہے ہیں۔ جہاں کم سے کم قیمت میں براڈ بینڈ، وائی فائی، انٹرنیٹ دستیا ب ہوسکے۔ اس سے خاص طور سے ہمارے غریب کنبے کے بچوں کو، نوجوان ساتھیوں کو آن لائن تعلیم کے مواقع سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔ اب تو کوشش یہ بھی ہے کہ ملک میں سستے ٹیبلیٹس اور دوسرے ڈیجیٹل دیوائس کو مہیا کرایا جا سکے ۔ اس کے لیے ملک اور دنیا کی الکٹرانکس کمپنیوں کو پی ایل آئی اسکیم کی سہولت دی گئی ہے۔

ساتھیوں!

آج بھارت جتنی مضبوطی کے ساتھ دنیا کی سب سے ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے طور پر ابھر رہا ہے وہ ہر شہری کے لیے فخر کی بات ہے۔ گذشتہ 6-7 برسوں میں الگ الگ منصوبوں کے تحت تقریباً17 لاکھ کروڑ روپیے راست طور پر لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے ہیں۔ کورونا کے اس دور میں ڈیجیٹل انڈیا  کی یہ مہم ملک کے کتنے کام آئی ہے، یہ بھی ہم تمام نے دیکھا ہے۔ جس وقت دنیا کے بڑے بڑے اور خوشحال ممالک ، لاک ڈاؤن  کی وجہ سے اپنے شہریوں کو امدادی رقم نہیں بھیج پا رہے تھے ، بھارت ہزاروں کروڑ روپیے، راست طریقے سے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجا جا رہا تھا۔ کورونا کے اس ڈیڑھ سال میں ہی بھارت نے مختلف منصوبوں کے تحت تقریباً 7 لاکھ کروڑ روپیے ڈی بی ٹی کے تحت لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجے ہیں۔ بھارت میں آج صرف بھیم  یو پی آئی ایپ  سے ہی ہر ماہ تقریباً 5 لاکھ کروڑ رپیے کا ٹرانزیکشن ہوتا ہے۔

ساتھیوں!

کسانوں کی زندگی میں بھی ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ پی ایم کسان سمان نیدھی اسکیم کے تحت 10 کروڑ سے زیادہ کسان کنبوں کو 1 لاکھ 35 کروڑ روپیے راست طریقے سے بینک اکاؤنٹ میں جمع کیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا نے ون نیشن – ون ایم ایس پی کے احساس کو تقویت پہنچائی ہے۔اس سال گندم کی ریکارڈ خریداری کا تقریباً85 ہزار کروڑ روپیے راست طریقے سے کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجے گئے ہیں۔ای – این اے ایم پورٹل سے ہی اب تک ملک کے کسانوں کو ایک لاکھ 35 ہزار کروڑ روپیے سے زیادہ کا لین دین کر چکے ہیں۔

ساتھیوں!

ون نیشن – ون کارڈ یعنی ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور دوسری سہولیات کے لیے پیمنٹ کا ایک ہی وسیلہ، ایک بہت بڑی سہولت ثابت ہونے والا ہے۔ فاس ٹیگ کے آنے سے پورے ملک میں ٹرانسپورٹ آسان بھی ہوا ہے، سستا بھی ہوا ہے اور وقت کی بچت ہو رہی ہے۔ اسی طرح جی ایس ٹی سے، ای وے بلز سے، ملک میں تجارت و کاروبا میں آسانی اور شفافیت ، دونوں کو ہی یقینی بنایا گیا ہے۔ کل ہی جی ایس ٹی کے نفاذ کو چار سال پورے ہوئے ہیں۔ کورونا کے اس بحران کے باوجود گذشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل جی ایس ٹی ریونیو ایک لاکھ کروڑ روپیے کے نشان کو پار کر رہا ہے۔ آج ایک کروڑ 28 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاروبار اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہیں، ای- مارکٹ پلیس یعنی جی ای ایم سے ہونے والی خریداری نے شفافیت میں اضافہ کیا ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے کاروباریوں کو مواقع حاصل ہوئے ہیں۔

ساتھیوں!

یہ دہائی، ڈیجیٹل ٹکنالوجی میں بھارت کی صلاحیت کو، گلوبل ڈیجیٹل اکانومی میں بھارت کی شراکت داری میں بہت زیادہ اضافہ کرنے والا ہے۔ اس لیے بڑے بڑے ماہرین اس دہائی کو انڈیا کے ٹیک ایڈ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آئند کچھ برسوں میں بھارت کی درجنوں ٹکنالوجی کمپنیاں یونیکارن کلب میں شامل ہوں گی۔یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ڈیٹا اور ڈیموگرافک ڈیویڈینڈ کی مجموعی طاقت  کتنا بڑا موقع ہمارے سامنے لا رہی ہے۔

ساتھیوں!

فائیو جی ٹکنالوجی پوری دنیا میں زندگی کے ہر پہلو میں بڑی تبدیلی لانے والی ہے۔ بھارت بھی اس کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔ آج جب دنیا کی انڈسٹری 4.0 کی بات کر رہی ہے تو بھارت اس کے ایک بڑے شراکت دار کے طور پر حاضر ہے۔ ڈیٹا پاور ہاؤس کے طور پر بھی اپنی ذمہ داریوں کا بھارت کو احساس ہے۔ اس لیے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے بھی ہر ضروری کوششوں پر مسلسل کام جاری ہے۔ کچھ دنوں پہلے ہی، سائبر سکیورٹی سے جڑی انٹرنیشنل رینکنگ آئی ہے۔ 180 سے زائد ممالک کے آئی تی یو-گلوبل سائبر سکیورٹی انڈیکس میں بھارت دنیا کے سرفہرست دس ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ سال بھر پہلے ہم اس میں 47ویں مقام پر تھے۔

ساتھیوں!

مجھے بھارت کے نوجوانوں پر، ان کی صلاحیتوں اور لیاقتوں پر پورا اعتماد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے نوجوان ڈیجیٹل امپاورمنٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے رہیں گے۔ ہمیں مل کر کوششیں کرتے رہنا  ہوگا۔ ہم اس دہائی کو انڈیا ٹیک ایڈ بننے میں کامیاب ہوں گے، ان ہی سب نیک خواہشات کے ساتھ آپ تمام ہی حضرات کو ایک بار پھر میری طرف سے بہت بہت مبارکباد!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Best Never The Loudest': Bear Grylls Gives Shoutout To ‘Powerful Leader’ PM Modi

Media Coverage

'Best Never The Loudest': Bear Grylls Gives Shoutout To ‘Powerful Leader’ PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves infrastructure projects between National Highway-19 and Varanasi Ring Road in Uttar Pradesh worth Rs.14447.64 crore
July 15, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved the development of a Link/Connector Corridor between National Highway-19 (NH-19) and the Varanasi Ring Road with riverbank connectivity along the River Ganga for the decongestion of Varanasi City in Uttar Pradesh. The 46.039 km project, comprising a six-lane elevated main carriageway, an iconic cable-stayed bridge, an extradosed Foot Over Bridge-cum-Major Bridge, loops, ramps, link roads and service roads, will be implemented under the Hybrid Annuity Model (HAM) at a total capital cost of Rs.14,447.64 crore including a civil construction cost of Rs.6,037.85 crore (including utility shifting, excluding GST) and a land acquisition cost of Rs.541.11 crore under NH(O).

The project will provide seamless connectivity between NH-19 and the Varanasi Ring Road, significantly decongesting the city’s road network and improving urban mobility. Designed for an operating speed of 80–100 km/h, it is expected to reduce the average travel time across the project influence area from approximately 60 minutes to 20 minutes, representing a reduction of nearly 67 per cent. Travel time between NH-19 and Kashi Railway Station will be reduced from approximately 50 minutes to about 25 minutes, resulting in a saving of about 25 minutes (nearly 50 per cent).

Aligned with the PM Gati Shakti National Master Plan, the corridor will strengthen multimodal connectivity by providing seamless access to major highways, railway stations, Lal Bahadur Shastri Airport and Ramnagar IWAI Port, while significantly improving connectivity to key religious, educational and cultural landmarks, including the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort and the Ghats of Varanasi. By linking important economic, social and logistics nodes, the project will improve logistics efficiency, enhance road safety, facilitate tourism and pilgrimage, and support sustainable regional economic growth across eastern Uttar Pradesh.

The corridor has been conceived as a transformative urban mobility project to decongest the road network of Varanasi & Chandauli by providing a high-speed, access-controlled connection between NH-19, the Varanasi Ring Road (NH-135B), Ramnagar/ BHU and other major urban destinations. With more than 15 crore tourists and pilgrims visiting Varanasi every year, the project will significantly improve connectivity to major religious, educational and cultural landmarks, including the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort, the Ghats of Varanasi, and Kashi Railway Station, while substantially reducing congestion on the existing city road network. An elevated spur between BHU/Lanka and Samne Ghat will further ease traffic congestion at the heavily trafficked Lanka Junction by separating through traffic from local traffic movements.

The project will improve road safety through controlled-access movement, reduce vehicle operating costs and emissions, enhance travel reliability, and facilitate the efficient movement of passenger and freight traffic. It will also decongest NH-19, the BHU-Ramnagar Corridor and NH-35 by diverting through traffic away from the densely developed urban core.

The project incorporates several landmark engineering features, including an iconic 910 m cable-stayed bridge across the River Ganga, a 1.32 km extradosed Foot Over Bridge-cum-Major Bridge with travelators providing seamless pedestrian connectivity to the Kashi Vishwanath Temple, a Rail Over Bridge over the existing/proposed Malviya Bridge, dedicated emergency parking bays, noise barriers, façade lighting and architectural elements inspired by the cultural heritage of Varanasi. These features will not only improve transportation efficiency but also enhance the city’s urban landscape, create an iconic addition to Varanasi’s skyline, and reinforce its position as one of India’s foremost religious and cultural destinations.

Planned in accordance with the PM Gati Shakti National Master Plan, the corridor will strengthen multimodal connectivity by linking one Economic Node (Chandauli SEZ), one Social Node (Chandauli Aspirational District) and six major Logistics Nodes, namely Lal Bahadur Shastri Airport, Kashi Railway Station, Banaras Railway Station, Varanasi City Railway Station, Pt. Deen Dayal Upadhyay Junction and Ramnagar IWAI Port. By providing seamless connectivity between these transport hubs and key destinations such as the Kashi Vishwanath Temple, Banaras Hindu University (BHU), Namo Ghat, Ramnagar Fort and the Ghats of Varanasi, the project will enhance multimodal integration, improve logistics efficiency, facilitate tourism and pilgrimage, and support sustainable regional economic development across eastern Uttar Pradesh.

Overall, the proposed Ganga Elevated Corridor will create a modern, high-capacity urban transport corridor that transforms mobility in Varanasi by providing faster, safer and more reliable connectivity, significantly reducing congestion, strengthening multimodal integration, enhancing tourism and pilgrimage infrastructure, and supporting sustainable economic growth in line with the vision of PM Gati Shakti and Viksit Bharat.

Map of Corridor: