Quoteانہوں نے بندیل کھنڈ کی ایک اہم شخصیت میجر دھیان چند یا ددّا دھیان چند کو یاد کیا
Quoteاجولا یوجنا سے جن لوگوں، خصوصی طور پر خواتین کی زندگی میں اجالا ہوا ہے، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے: وزیراعظم
Quoteاجولا یوجنا سے بہنوں کی صحت مندی، انہیں سہولت فراہم کرانے اور با اختیار بنانے کے عزم کو بہت زیادہ تحریک ملی ہے: وزیراعظم
Quoteمکان، بجلی، پانی ، ٹوائلیٹ، گیس، سڑک، اسپتال اور اسکول جیسی بنیادی سہولتوں کا مسئلہ تو دہائیوں پہلے حل کیا جاسکتا تھا: وزیراعظم
Quoteاجولا 2.0 اسکیم سے لاکھوں مہاجر مزدور خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا: وزیراعظم
Quoteبایو فیول ایندھن کے معاملے میں خود کفیلی، ملک کی ترقی اور گاؤں کی ترقی کا انجن ہے: وزیراعظم
Quoteمزید باصلاحیت بھارت کے عزم کو پورا کرنے میں بہنوں کا خصوصی رول ہوگا: وزیراعظم

نمسکار!

ابھی مجھے آپ سب ماتاؤں-بہنوں سے بات کرنے کا موقع ملا اور میرے لئے خوشی ہے کہ تھوڑے دن کے بعد ہی رکشا بندھن کا تہوار بھی آر ہاہے اور آج مجھے پیشگی میں ماتاؤں ، بہنوں کے آشیرواد بھی ملے۔اور ایسے میں ملک کے کروڑوں غریب، دلت، محروم طبقات، پسماندہ طبقات، قبائلی خاندانوں کی بہنوں کو آج ایک  اور تحفہ دینے کا موقع ملاہے۔آج اُجّولا یوجنا کے اگلے مرحلے میں کئی بہنوں کو مفت گیس کنکشن اور گیس چولہا مل رہا ہے۔ میں مستفدین کو پھر سے بہت بہت مبارکباد دیتاہوں۔

مہوبا میں موجود مرکزی کابینہ میں میرے معاون ہردیپ سنگھ پوری جی ، یوپی کے وزیر اعلیٰ جناب آدتیہ ناتھ جی،کابینہ کے میرے ایک اور ساتھی رامیشور تیلی جی، اترپردیش کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ جی، ڈاکٹر دنیش شرما جی، ریاستی سرکار کے دیگر تمام وزراء، تمام پارلیمنٹ کےمیرے ساتھی، تمام قابل احترام ممبران اسمبلی اور میرے بھائیوں اور بہوں،

اُجّولا یوجنا نے ملک کے جتنے لوگوں ، جتنی خواتین کی زندگی روشن کی ہے، وہ بے مثال ہے۔یہ یوجنا 2016ء سے اترپردیش کے بلیہ سے آزادی کی لڑائی کے اگلی صف کی قائد منگل پانڈے جی کی سرزمین سے شروع ہوئی تھی۔آج اُجّولا کا دوسرا ایڈیشن بھی یوپی کے ہی مہوبا کی بہادروں کی زمین سے شروع ہورہا ہے۔ مہوباہو ، بندیل کھنڈ ہو، یہ تو ملک کی آزادی کے ایک طرح سے توانائی کے مقامات رہے ہیں۔یہاں کے ذرہ ذرہ میں رانی لکشمی بائی، رانی درگا وتی، مہاراجہ چھتر سال، ویر آلہا اور اودل جیسے متعدد ویر –ویرانگناؤں کی بہادری کے داستانوں کی خوشبو ہے۔آج جب  ملک اپنی آزادی کا امرت مہتوسو منا رہا ہے تو یہ انعقاد اِن عظیم شخصیتوں کو یاد کرنے کا بھی موقع لے کر آیا ہے۔

|

ساتھیوں،

آج میں بندیل کھنڈ کی ایک اور عظیم سپوت کو یاد کررہا ہوں۔ میجر دھیان چند، ہمارے ددّا دھیان چند۔ ملک کے سب سے بڑے کھیل ایوارڈ کا نام اب میجر دھیان چند کھیل رتن پُرسکار ہوگیا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اولمپک میں ہمارے نوجوان ساتھیوں کی غیر معمولی کارکردگی کے درمیان کھیل رتن کے ساتھ جڑا ددّا کا یہ نام لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کو تحریک دےگا۔اس بار ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے میڈل تو جیتے ہی، مختلف کھیلوں میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرکے مستقبل کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہم آزادی کے 75ویں سال میں داخل ہونے والے ہیں۔ایسے میں پچھلی سات دہائیوں کی ترقی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ضرور لگتا ہے کہ بعض حالات ایسے ہیں، جن کو کئی دہائی قبل بدلا جاسکتا تھا۔ گھر، بجلی، پانی، بیت الخلا، گیس، سڑک، اسپتال، اسکول ایسی متعدد بنیادی ضرورتیں ہیں، جن کی تکمیل کے لئے دہائیوں کا انتظار ملک کے شہریوں کو کرنا پڑا، یہ افسوسناک ہے۔اس کا سب سے زیادہ نقصان کسی نے اٹھایا ہے تو ہماری ماتاؤں  بہنوں نے اٹھایا ہے۔خاص طور سے غریب ماتاؤں –بہنوں کو مصیبت جھیلنی پڑی ہے۔جھونپڑی میں ٹپکتے ہوئے پانی سے سب سے زیادہ پریشانی اگر کسی کو ہے ، تو ماں کو ہے۔بجلی کی دقت میں سب سے زیادہ پریشانی ہے تو ماں کو ہے۔پانی کی گندگی سے خاندان بیمار ، تو بھی سب سے زیادہ پریشانی ماں کو۔ بیت الخلا کی قلت میں اندھیرا ہونے کا انتظار ، پریشانی ہماری ماتاؤں-بہنوں کو ۔اسکول میں اگر ٹوائلٹ نہیں تو مسئلہ ہماری بیٹیوں کا ۔ ہماری جیسی متعدد نسلیں تو ماں کو دھوئیں میں آنکھیں ملتے ، بلا کی گرمی میں بھی آگ میں تپتے ، ایسے ہی منظر کو دیکھتے ہوئے ہی بڑی ہوئی ہیں۔

|

 

ساتھیوں،

اس طرح کی صورتحال کے ساتھ کیا ہم آزادی کے 100ویں کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟کیا ہماری توانائی صرف بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہی لگی رہے گی؟جب بنیادی سہولتوں کے لئے ہی کوئی خاندان ، کوئی سماج جدوجہد کرتا رہے گا ، تو وہ اپنے بڑے خوابوں کو پورا کیسے کرسکتا ہے؟ خواب پورے ہوسکتے ہیں، جب تک یہ اعتماد سماج کو نہیں ملے گا ، تب ان کو پورا کرنے کی خود اعتمادی وہ کس طرح اکٹھا کر پائے گا؟ اور خود اعتمادی کے بغیر کوئی ملک آتم نر بھر کیسے بن سکتا ہے؟

بھائیوں اور بہنوں،

2014ء میں جب ملک نے ہمیں جب خدمت کا موقع دیا، تو ایسے ہی سوالوں کو ہم نے خود سے پوچھا۔ تب بالکل واضح تھا کہ ان تمام مسائل کا حل ہمیں ایک طے وقت کے اندر ہی تلاش کرنا ہوگا۔ ہماری بیٹیاں گھر اور رسوئی سے باہر نکل کر قومی تعمیر میں وسیع تعاون تبھی دے پائیں گی، جب پہلے گھر اور رسوئی سے جڑے مسائل حل ہوں گے۔اس لئے گزرے ہوئے 7-6سالوں میں ایسے ہر حل کے لئے مشن موڈ پر کام کیا گیا ہے۔ سووچھ بھارت مشن کے تحت ملک بھر میں کروڑوں بیت الخلا بنائے گئے۔بھارت منتری آواس یوجنا میں دو  کروڑ سے زیادہ غریبوں کے پختہ گھر تعمیر ہوئے۔ان گھروں میں زیادہ کا تر مالکانہ حق بہنوں کے نام پر ہے۔ ہم نے ہزاروں کلو میٹر دیہی سڑکیں بنوائیں تو سوبھاگیہ یوجنا کے تحت تقریباً3 کروڑ خاندانوں کو بجلی کنکشن دیا۔آیوشمان بھارت یوجنا 50 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو 5لاکھ روپے تک کے مفت علاج کی سہولت دے رہی ہے۔ماتر وندنا  یوجنا کے تحت حمل کے دوران ٹیکہ کاری اور تغذیے کے لئے ہزاروں روپے براہ راست بینک کھاتے میں جمع کئے جارہے ہیں۔ جن دھن یوجنا کے تحت ہم نے کروڑوں بہنوں کے بینک کھاتے کھلوائے، جن میں کورونا کے دور میں  تقریباً 30ہزار کروڑ روپے سرکار نے جمع کروائے ہیں۔ اب ہم جل جیون مشن کے ذریعے دیہی خاندانوں کی ہماری بہنوں کو پائپ سے صاف پانی نل سے پہنچانے کا کام کررہے ہیں۔

ساتھیوں،

بہنوں کی صحت ، سہولت اور بااختیار بنانے کے اس عہد کو اُجّولا یوجنا نے بہت بڑی طاقت دی ہے۔یوجنا کے پہلے مرحلے میں 8کروڑ غریب، دلت ، محروم طبقات، پسماندہ طبقات، قبائل خاندانوں کی بہنوں کو مفت گیس کنکشن دیا گیا۔اس کا کتنا فائدہ ہوا ہے ، یہ ہم نے کورونا کے دور میں دیکھا ہے۔جب باہر آنا جانا بند تھا، کام دھندے بند تھے، تب کروڑوں غریب خاندانوں کو کئی مہینوں تک مفت گیس سلینڈر دیئے گئے۔ تصور کیجئے  اُجّولا نہیں ہوتی، تو بحران کے اس دور میں ہماری اِن بہنوں کیا حالت کیا ہوتی؟

ساتھیوں،

اُجّولا یوجنان کا ایک اور اثر یہ بھی ہوا کہ پورے ملک میں ایل پی جی گیس سے جڑے انفراسٹرکچر کی کئی گناتوسیع ہوئی ہے۔ گزرے ہوئے 7-6 سال میں ملک بھر میں 11ہزار سے زیادہ نئے ایل پی جی تقسیم مراکز کھولے گئے ہیں۔تنہا اترپردیش میں 2014ء میں 2000 سے بھی کم تقسیم مراکز تھے، آج یوپی میں ان کی تعداد 4000 سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس سے ایک تو ہزاروں نوجوانوں کو نئے روزگار ملے اور دوسرا جو خاندان پہلے بہتر سہولت کی قلت میں گیس کنکشن سے محروم تھے ، وہ بھی جڑ گئے۔ ایسی ہی کوششوں سے آج بھارت میں گیس کوریج صد فیصد ہونے کے بہت قریب ہے۔2014ء تک ملک میں جتنے گیس کنکشن تھے، اس سے زیادہ پچھلے سات سال میں دیئے گئے ہیں۔ سلینڈر بکنگ اور ڈلیوری کو لے کر پہلے جو پریشانی ہوتی تھی، اسے بھی دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

اُجّولا یوجنا سے جو یہ سہولتیں بڑھیں ہیں، اس میں ایک اور سہولت جوڑی جارہی ہے۔ بندیل کھنڈ سمیت پورے یوپی اور دوسری ریاستوں کے ہمارے بہت سے ساتھی کام کرنے کے لئے گاؤں سے شہر جاتے ہیں۔ دوسری ریاست جاتے ہیں، لیکن وہاں ان کے سامنے پتے کی تصدیق کا مسئلہ آتا ہے۔ ایسے ہی لاکھوں خاندانوں کو اُجّولا دوسرے مرحلے کی یوجنا سب سے زیادہ راحت دینے والی ہے۔ اب میرے مزدور ساتھیوں کو پتے کی تصدیق کے لئے ادھر ادھربھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سرکار کو آپ کی ایمانداری پر پورا بھروسہ ہے۔ آپ کو اپنے پتے کا صرف ایک سیلف ڈکلیئریشن یعنی خود لکھ کر دینا ہے اور آپ کو گیس کنکشن مل جائے گا۔

ساتھیوں،

سرکار کی کوشش اب اس سمت میں یہ بھی ہے کہ آپ کے رسوئی میں پانی کی طرح گیس بھی پائپ سے آئے۔ یہ پی این جی سلینڈر کے مقابلے بہت سستی بھی ہوتی ہے۔ اترپردیش سمیت مشرقی بھارت کے متعدد اضلاع میں پی این جی کنکشن دینے کا کام بہت تیزی سے چل رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں یوپی کے 50 سے زیادہ اضلاع میں تقریباً 21 لاکھ گھروں کو اس سے جوڑنے کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح سی این جی پر مبنی ٹرانسپورٹ کے لئے بڑی سطح پر کوشش کی جارہی ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

جب خواب بڑے ہوتے ہیں تو ان کو حاصل کرنے کی کوشش بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہئے۔آج عالمی بایو فیول دن پر ہمیں اپنے اہداف کو پھر یاد کرنا ہے۔ ابھی ہم نے ایک  چھوٹی سی فلم بھی دیکھی ہے۔ بایو فیول کے شعبے میں کیا کام ہورہا ہے، بایو فیول ایک صاف ایندھن بھر نہیں ہے، بلکہ یہ ایندھن میں خود انحصاری کے انجن کو ، ملک کی ترقی کے انجن کو ، گاؤں کی ترقی کے انجن کو رفتار دینے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ بایو فیول  ایک ایسی توانائی ہے، جو ہم گھر اور کھیت کے کچرے سے، پودوں سے ، خراب سڑے ہوئے اناج سے حاصل کرسکتے ہیں۔ایسے ہی ایک بایو فیول –ایتھینال پر ملک بہت بڑے اہداف کے ساتھ کام کررہا ہے۔گزرے ہوئے 7-6سالوں میں ہم پیٹرول میں 10 فیصد بلینڈنگ کے ہدف کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ آنے والے 5-4 سال میں ہم 20فیصد بلینڈ نگ کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہدف ملک میں ایسی گاڑیوں کی تعمیر کا بھی ہے،جو صد فیصد ایتھینال سے ہی چلیں گی۔

ساتھیوں،

ایتھینال سے آناجانا بھی سستا ہوگا، ماحولیات بھی محفوظ رہے گا۔ لیکن سب سے بڑا فائدہ ہمارے کسانوں کو ہوگا، ہمارے نوجوانوں کو ہوگا۔ اس میں بھی خصوصی طور سے یوپی کے کسانوں –نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوگا۔گنّے سے جب ایتھینان بنانے کا متبادل ملے گا تو گنّا پیدا کرنے والے کسانوں کو پیسہ بھی زیادہ ملے گا اور وقت پر ملے گا۔پچھلے سال ہی یوپی میں ایتھینال پیدا کرنے والوں سے 7ہزار کروڑ روپے کا ایتھینال خریدا گیا ہے۔گزرے ہوئے سالوں میں ایتھینال سے جڑی ، بایو فیول سے جڑی ،متعدد اِکائیاں یوپی میں بنائی گئی ہیں۔ گنّے کے فضلہ سے کمپریسڈ بایو گیس بنانے کے لئے یوپی کے 70اضلاع میں سی بی جی پلانٹ بنانے کا عمل چل رہا ہے۔ اب تو زراعتی فضلہ سے ، پرالی سے، بایو فیول بنانے کے لئے 3بڑے کمپلیکس بنائے جارہے ہیں۔ ان میں سے 2 یوپی کے بدایوں اور گوکھپورپور میں اور ایک پنجاب کے بھٹنڈا میں بنایا جارہا ہے۔ اِن پروجیکٹوں سے کسانوں کو کچرے کا دام بھی ملے گا، ہزاروں  نوجوانوں کو روزگار ملےگاماحولیات کا بھی تحفظ ہوگا۔

ساتھیوں،

اسی طرح ایک دوسرا اہم منصوبہ ہے، گوبردھن یوجنا ۔ یہ منصوبہ گوبر سے بایو گیس بنانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اس سے گاؤں میں صاف صفائی بھی آئے گی اور ایسے جانور ، جو ڈیری سیکٹر کے لئے مفید نہیں ہے، جو دودھ نہیں دیتے ہیں، وہ بھی کمائی کرکے دیں گے۔ یوگی جی کی سرکار نے متعدد گوشالاؤں کی بھی تعمیر کی ہے۔ یہ گائے اور گائے کی نسل کے دوسرے جانوروں کی دیکھ بھال اور کسانوں کی فصل کی حفاظت کے لئے اہم کوشش ہے۔

ساتھیوں،

اب ملک بنیادی سہولتوں کی تکمیل میں بہتر زندگی کے خواب کو پورا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آنے والے 25 سال میں اس صلاحیت کو ہمیں کئی گنان بڑھانا ہے۔اہلیت اور صلاحیت بھارت کے اس عہد کو ہمیں مل کر ثابت کرنا ہے۔اس میں بہنوں کا خصوصی کردار ہونے والا ہے۔ میں اُجّولا کی تمام مستفدین بہنوں کو پھر سے مبارکباد دیتا ہوں اور رکشا بندھن کے اس مقدس تہوار سے پہلے ماتاؤں-بہوں کی خدمت کر نے کا موقع ملا۔ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتاہوں۔ آپ کا آشیرواد ہمیشہ بنا رہے، تاکہ ہم ایک نئی توانائی کے ساتھ ماں بھارتی خدمت کے لئے ، 130 کروڑ ملک کے شہریوں کی خدمت کے لئے، گاؤں، غریب، کسان، دلت، مظلوم، پسماندہ طبقات، سب کی خدمت کے لئے جی جان سے لگے رہیں۔ اسی خواہش کے ساتھ آپ کو بہت بہت نیک خواہشات۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔

  • Ganesh Dhore January 01, 2025

    Jay Shri ram 🚩
  • didi December 25, 2024

    ''''
  • didi December 25, 2024

    .
  • Devendra Kunwar October 20, 2024

    BJP 🙏🏻
  • Sonu Kumar September 18, 2024

    Sonu Kumar God
  • Seema lalwani September 03, 2024

    Jay shree ram
  • Ram Raghuvanshi February 27, 2024

    JAY SHRI RAM
  • MLA Devyani Pharande February 17, 2024

    जय श्रीराम
  • Jayanta Kumar Bhadra February 16, 2024

    Om Shanti
  • Jayanta Kumar Bhadra February 16, 2024

    Jay Maa
Explore More
وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن

Popular Speeches

وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن
India: The unsung hero of global health security in a world of rising costs

Media Coverage

India: The unsung hero of global health security in a world of rising costs
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs a High-Level Meeting to review Ayush Sector
February 27, 2025
QuotePM undertakes comprehensive review of the Ayush sector and emphasizes the need for strategic interventions to harness its full potential
QuotePM discusses increasing acceptance of Ayush worldwide and its potential to drive sustainable development
QuotePM reiterates government’s commitment to strengthen the Ayush sector through policy support, research, and innovation
QuotePM emphasises the need to promote holistic and integrated health and standard protocols on Yoga, Naturopathy and Pharmacy Sector

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a high-level meeting at 7 Lok Kalyan Marg to review the Ayush sector, underscoring its vital role in holistic wellbeing and healthcare, preserving traditional knowledge, and contributing to the nation’s wellness ecosystem.

Since the creation of the Ministry of Ayush in 2014, Prime Minister has envisioned a clear roadmap for its growth, recognizing its vast potential. In a comprehensive review of the sector’s progress, the Prime Minister emphasized the need for strategic interventions to harness its full potential. The review focused on streamlining initiatives, optimizing resources, and charting a visionary path to elevate Ayush’s global presence.

During the review, the Prime Minister emphasized the sector’s significant contributions, including its role in promoting preventive healthcare, boosting rural economies through medicinal plant cultivation, and enhancing India’s global standing as a leader in traditional medicine. He highlighted the sector’s resilience and growth, noting its increasing acceptance worldwide and its potential to drive sustainable development and employment generation.

Prime Minister reiterated that the government is committed to strengthening the Ayush sector through policy support, research, and innovation. He also emphasised the need to promote holistic and integrated health and standard protocols on Yoga, Naturopathy and Pharmacy Sector.

Prime Minister emphasized that transparency must remain the bedrock of all operations within the Government across sectors. He directed all stakeholders to uphold the highest standards of integrity, ensuring that their work is guided solely by the rule of law and for the public good.

The Ayush sector has rapidly evolved into a driving force in India's healthcare landscape, achieving significant milestones in education, research, public health, international collaboration, trade, digitalization, and global expansion. Through the efforts of the government, the sector has witnessed several key achievements, about which the Prime Minister was briefed during the meeting.

• Ayush sector demonstrated exponential economic growth, with the manufacturing market size surging from USD 2.85 billion in 2014 to USD 23 billion in 2023.

•India has established itself as a global leader in evidence-based traditional medicine, with the Ayush Research Portal now hosting over 43,000 studies.

• Research publications in the last 10 years exceed the publications of the previous 60 years.

• Ayush Visa to further boost medical tourism, attracting international patients seeking holistic healthcare solutions.

• The Ayush sector has witnessed significant breakthroughs through collaborations with premier institutions at national and international levels.

• The strengthening of infrastructure and a renewed focus on the integration of artificial intelligence under Ayush Grid.

• Digital technologies to be leveraged for promotion of Yoga.

• iGot platform to host more holistic Y-Break Yoga like content

• Establishing the WHO Global Traditional Medicine Centre in Jamnagar, Gujarat is a landmark achievement, reinforcing India's leadership in traditional medicine.

• Inclusion of traditional medicine in the World Health Organization’s International Classification of Diseases (ICD)-11.

• National Ayush Mission has been pivotal in expanding the sector’s infrastructure and accessibility.

• More than 24.52 Cr people participated in 2024, International Day of Yoga (IDY) which has now become a global phenomenon.

• 10th Year of International Day of Yoga (IDY) 2025 to be a significant milestone with more participation of people across the globe.

The meeting was attended by Union Health Minister Shri Jagat Prakash Nadda, Minister of State (IC), Ministry of Ayush and Minister of State, Ministry of Health & Family Welfare, Shri Prataprao Jadhav, Principal Secretary to PM Dr. P. K. Mishra, Principal Secretary-2 to PM Shri Shaktikanta Das, Advisor to PM Shri Amit Khare and senior officials.