دوہرے انجن والی حکومت نے تریپورہ میں یکسر تبدیلی کی ہے:وزیراعظم
تریپورہ‘‘ ہیرہ ’’ ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے ،یعنی ہائی ویز، آئی- ویز، ریلویز اور ایئر ویز
کنکٹی وٹی نہ صرف ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسی کو مستحکم کر رہی ہے،بلکہ کاروبار کے لئے بھی مضبوط رابطہ فراہم کر رہی ہے: وزیراعظم
میتری پُل بنگلہ دیش میں بھی اقتصادی مواقع میں اضافہ کرے گا: وزیراعظم

نمسکار !کُھلمکھا!

تریپورہ کے  گورنر جناب رمیش بیس جی، مقبول وزیراعلی جناب بپلب دیو جی، نائب  وزیراعلی جناب جشنو دیو ورما جی، ریاستی حکومت کے تمام وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی اور تریپورہ کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو! آپ سبھی کو تبدیلی کے تریپورہ  کی ترقی کے سفر کے تین سال پورے ہونے پر بہت بہت مبارکباد! بہت بہت نیک خواہشات!

بھائیو اور بہنو،

آج سے تین سال قبل آپ لوگوں نے، تریپورہ کے لوگوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی اور پورے ملک کو ایک بہت مضبوط پیغام دیا تھا۔ دہائیوں سے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے  والی منفی طاقتوں کو ہٹاکر تریپورہ کے لوگوں نے ایک نئی شروعات کی تھی۔ جن بیڑیوں  میں تریپورہ، تریپورہ کی صلاحیت جکڑی ہوئی تھی، آپ نے وہ بیڑیاں توڑ دی ہیں۔ وہ بیڑیاں ٹوٹ چکی ہے۔مجھے اطمینان ہے کہ ماں تریپورہ سندری کے آشیرواد سے  بپلب دیو جی کی قیادت میں چلنے والی حکومت  اپنے عزائم کو تیزی سے  پورا کررہی ہے۔

ساتھیو،

آپ نے 2017 میں  تریپورہ میں ترقی کا ڈبل انجن لگانے کا فیصلہ کیا۔ ایک انجن تریپورہ میں، ایک انجن دلی میں اور اس ڈبل انجن  کے فیصلے کی وجہ سے جو نتائج سامنے آئے، جو ترقی کی راہ ہموار ہوئی وہ آپ کے سامنے ہے۔ آج تریپورہ پرانی حکومت کے 30 سال اور ڈبل انجن کی  3 سال کی حکومت میں آنے والی تبدیلیوں کو  واضح طور پر محسوس کررہا ہے۔ جہاں کمیشن اور کرپشن  کے بغیر کام ہونے  مشکل تھے،وہاں آج سرکاری فائدہ لوگوں کے بینک کھاتوں میں ڈائرکٹ پہنچ رہا ہے۔ جو ملازمین وقت پر تنخواہ پانے کے لئے پریشان ہوا کرتے تھے، ان کو ساتویں پے کمیشن کے تحت سیلری مل رہی ہے۔جہاں کسانوں کو اپنی پیداوار  فروخت کرنے کے لئے  بہت سی مشکلیں اٹھانی پڑتی تھیں، وہیں پہلی بار  تریپورہ میں کسانوں  سے ایم ایس پی  پر خریداری یقینی ہوئی۔منریگا کے تحت کام  کرنے والے ساتھیوں کو  جہاں پہلے 135 روپے ملتے تھے وہیں اب 205 روپے یومیہ دیئے جارہے ہیں۔ جس تریپورہ کو ہڑتال کلچر نے  برسوں پیچھے کردیا تھا آج وہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کے لئے کام کررہا ہے۔ جہاں کبھی صنعتوں میں تالے لگنے کی نوبت آگئی تھی وہاں اب نئی صنعتوں ، نئی سرمایہ کاری کے لئے جگہ  بن رہی ہے۔ تریپورہ کےٹریڈ وولیوم  میں تو اضافہ ہوا ہی ہے، ریاست سے ہونےوالی برآمد ات میں بھی تقریباً 5 گنا تک اضافہ ہوگیا ہے۔

ساتھیو،

تریپورہ کی ترقی کے کے لئے مرکزی حکومت نے ہر ضرورت کا خیال رکھا ہے۔ گزشتہ 6 سال میں تریپورہ کو  مرکزی حکومت سے ملنے والی رقم میں بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ سال 2009 سے 2014 کے درمیان مرکزی حکومت سے تریپورہ کو  مرکزی ترقیاتی پروجیکٹوں کے لئے  3500 کروڑ روپے کی مدد ملی تھی۔  پنتیس سو کروڑ کی ۔ جبکہ سال 2014 سے 2019 کے دوران ہمارے آنے کے بعد  12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی مدد دی گئی ہے۔آج تریپورہ ان بڑی ریاستوں کے لئے بھی ایک بڑی مثال بنتا جارہ اہے جہاں ڈبل انجن کی حکومت نہیں ہے اور جو حکومتیں دلی سے جھگڑا کرنے میں بھی  اپنا ٹائم برباد کرتی ہیں، ان کو بھی پتہ چل رہا ہے۔ جو کبھی پاور ڈیفیسٹ اسٹیٹ ہوا کرتا تھا، وہ آج ڈبل انجن کی حکومت کی وجہ سے پاور  سرپلس ہوگیا ہے۔ 2017 سے پہلے تریپورہ کے صرف 19 ہزار  دیہی گھروں  میں نل سے پانی آتا تھا، آج دلی اور تریپورہ کی ڈبل انجن حکومت کی وجہ سے  قریب   دو لاکھ دیہی گھروں میں نل سے پانی آنے لگا ہے۔

سال 2017 سے پہلے تریپورہ کے پانچ لاکھ 80 ہزار گھروں میں گیس کنکشن تھا۔ 6 لاکھ سے بھی کم۔ آج ریاست کے ساڑھے آٹھ لاکھ گھروں میں  گیس کنکشن ہیں۔ 8 لاکھ 50 لاکھ گھروں میں۔ ڈبل انجن کی حکومت قائم ہونے  سے قبل  تریپورہ میں محض 50 فیصد گاؤں کھلے میں رفع حاجت سے پاک تھے، آج تریپورہ کا قریب قریب ہر گاؤں  کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہے۔ سوبھاگیہ یوجنا کے تحت تریپورہ میں  100 فیصد بجلی کاری ہو، اجوولا یوجنا کے تحت ڈھائی لاکھ سے زیادہ مفت گیس کنکش دینا ہو یا پھر 50 ہزار سے زیادہ  حاملہ خواتین کو ماتر وندنا یوجنا کا فائدہ ہو، دلی کی اور تریپورہ کی ڈبل انجن کی حکومت کے یہ کام تریپورہ کی بہنوں بیٹیوں بااختیار بنانے میں مدد کررہے ہیں۔ تریپورہ میں پی ایم کسان سمان ندھی اور آیوشمان بھارت یوجنا کا بھی فائدہ کسانوں اور غریب خاندانوں کو مل رہا ہے جبکہ  یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ جہاں  ڈبل انجن کی حکومت نہیں ہے، آپ کے پڑوس میں ہی  غریبوں، کسانوں اور بیٹیوں کو با اختیار بنانے کی یہ اسکیمیں یا تو نافذ ہی نہیں کی گئیں یا پھر بہت ہی سست رفتار سے چل رہی ہیں۔

ساتھیو،

ڈبل انجن کی حکومت کا سب سے بڑا اثر غریبوں کو  اپنے پکے گھر دینے کی رفتار میں نظر آرہا ہے۔ آج جب تریپورہ کی حکومت چوتھے سال میں داخل ہورہی ہے تو  ریاست کے  40 ہزار غریب خاندانوں کو بھی  اپنا نیا گھر مل رہا ہے۔ جن غریب خاندانوں کے  اپنے گھر کا خواب پورا ہورہا ہے، وہ اچھی طرح اپنے ایک ووٹ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ اپنا ایک ووٹ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے صلاحیت کیسے ظاہر کرتا ہے ۔ وہ آج جب آپ کو اپنا گھر مل رہا ہے۔ تو آپ محسوس کررہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ  یہ نیا گھر آپ کے خوابوں اور آپ کے بچوں کے ارادوں کو نئی اڑان دینے والا ثابت ہوگا۔

بھائیو اور بہنو،

یہ ڈبل انجن کی ہی طاق ہے کہ پردھان منتری آواس یوجنا چاہے وہ  دیہی ہو یا شہری، اس میں تریپورہ بہت تیزی سے کام کررہا ہے۔ تریپورہ کے چھوٹے بڑے شہروں میں غریبوں کے لئے 80 ہزار سے زیادہ پکے گھر منظور ہوچکے ہیں۔ تریپورہ ملک کی ان 6 ریاستوں میں بھی شامل ہے جہاں نئی ٹکنالوجی سے تیار ہونے والے  جدید گھروں کی تعمیر ہورہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ تریپورہ میں  ہیرا (ایچ آئی آر اے) والی ترقی ہو، ایسا ڈبل انجن لگائیں گے اور ابھی  میں ویڈیو دیکھ رہا تھا، اچھے طریقے سے بتایا تھا ہیرا یعنی ہائی ویز، آئی ویز، ریلویز اور ایئر ویز، تریپورہ کی کنکٹی وٹی کے بنیادی ڈھانچے میں  گزشتہ تین سال میں تیزی سے اصلاح ہوئی ہے۔ ایئرپورٹ کا کام ہو یا  پھر سمندر کے راستے  تریپورہ کو انٹر نیٹ سے جوڑنے کا کام ہو۔ ریل لنک کو، ان میں تیزی سے کام ہورہا ہے۔ آج بھی تین ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے  جن پروجیکٹوں کو  قوم کے نام وقف کیا گیا اور جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، وہ ہمارے اسی ہیرا ماڈل کا ہی حصہ ہے۔ بلکہ اب تو واٹر ویز، پورٹ انفرا اسٹرکچر بھی اس میں جڑ گیا ہے۔

ساتھیو،

اسی کڑی میں آج گاؤں کے لئے  سڑکیں ، ہائی وے کو چوڑا کیا جانا  ، برج، پارکنگ، ایکسپورٹ کے لئے انفرا اسٹرکچر  اسمارٹ سٹی سے   متعلق انفرا اسٹرکچر  ، ان کا تحفہ آج تریپورہ کو ملا ہے۔ آج جو کنکٹی وٹی کی جو سہولتیں تریپورہ میں تیار ہورہی ہیں،  وہ دور دراز کے گاؤں میں  لوگوں کی زندگی آسان بنانے کے ساتھ ہی ، لوگوں کی آمدنی  میں اضافے میں بھی مدد کررہی ہیں۔ یہ کنکٹی وٹی  بنگلہ دیش کے ساتھ ہماری دوستی، ہماری تجارت کی بھی مضبوط  کڑی ثابت ہورہی ہے۔

ساتھیو،

اس پورے خطے کو  مشرقی ، شمال مشرقی بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان  ایک طرح سے ٹریڈ کوریڈور کے طور پر  فروغ دیا جارہا ہے۔ اپنے بنگلہ دیش دورے کے دوران  میں نے اور وزیراعظم شیخ حسینہ جی نے مل کر  تریپورہ کو بنگلہ دیش سے سیدھے جوڑنے والے   برج کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور آج  اس کو قوم کے نام وقف کیا گیا ہے۔ آج بھارت اور بنگلہ دیش کی دوستی اور کنکٹی وٹی کتنی مضبوط ہورہی ہے، اس کو لیکر ہم نے بنگلہ دیش اور  وزیراعظم  شیخ حسینہ جی کی بھی بات سنی۔ سبروم اور رام گڑھ کے درمیان  پُل سے ہماری دوستی بھی مضبوط ہوئی ہے اور  بھارت۔ بنگلہ دیش کی  خوشحالی کا کنکشن بھی جڑ گیا ہے۔ رشتہ کچھ برسوں میں  بھارت بنگلہ دیش کے درمیان  لینڈ  ،ریل اور  واٹر کنکٹی وٹی کے لئے  جو سمجھوتے زمین پر اترے ہیں، اس پُل سے وہ اور مضبوط ہوئے ہیں۔اس سے تریپورہ کے ساتھ ساتھ  جنوبی آسام، میزورم، منی پور کی بنگلہ دیش اور  جنوب مشرق ایشیا کے دوسرے ملکوں سے  کنکٹی وٹی مضبوط ہوگی۔ بھارت میں ہی نہیں بنگلہ دیش میں بھی  اس پُل سے کنکٹی وٹی بہتر ہوگی اور  اقتصادی مواقع بڑھیں گے۔ اس پُل کے بننے سے  بھارت۔ بنگلہ دیش کے لوگوں میں رابطے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ  ٹورزم اور ٹریڈ کے لئے  پورٹ لیڈ ڈیولپمنٹ کے لئے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سبروم اور اس کے آس پاس کا علاقہ پورٹ سے جڑی ہر کنکٹی وٹی کا  ، انٹرنیشنل ٹریڈ کا بہت بڑا مرکز بننے والا ہے۔

ساتھیو،

میتری پل کے علاوہ دیگر سہولیات جب تیار ہوجائیں گی تو شمال مشرق کے لئے کسی بھی طرح  کی سپلائی کے لئے ہمیں صرف  سڑک کے راستے پر منحصر رہنا نہیں پڑے گا۔ اب سمندر کے راستے، دریا کے راستے، بنگلہ دیش کی وجہ سے  راستے  بند ہونے سے متاثر نہیں ہوگی۔ جنوبی تریپورہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر، اب سبروم میں ہی انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کی تعمیر کا کام بھی آج سے شروع ہوگیا ہے۔ یہ آئی سی پی ایک فل فلیجڈ لاجسٹک ہب کی طرح کام کرے گا۔یہاں پارکنگ لاٹس بنیں گے، ویئر ہاؤس ز بنیں گے، کنٹینر ٹرانس شپمنٹ  فیسی لٹی تیار کی جائیں گی۔

ساتھیو،

فینی برج کے کھل جانے سے اگرتلہ، انٹرنیشنل سی پورٹ سے بھارت کا سب سے نزدیک کا شہر بن جائے گا۔ این ایچ 8 اور این ایچ 208  کو چوڑا کئے جانے سے متعلق  جن پروجیکٹوں کو آج قوم کے نام وقف کیا گیا ہے اور جن کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، ان سے شمال مشرق کی  پورٹ سے کنکٹی وٹی اور مضبوط  ہوگی۔ اس سے اگرتلہ  پورے شمال مشرق کے  لاجسٹکس کا بھی  اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔ اس روٹ سے ٹرانسپورٹ کی لاگت   بہت کم ہوجائے گی اور پورے شمال مشرق کو   آسانی سے سامان ملے گا۔ تریپورہ کے کسانوں کو اپنے  پھل، سبزی، دودھ، مچھلی اور دوسرے سامان کے لئے  ملکی، غیر ملکی بازار ملنے والے ہیں۔ یہاں جو پہلے سے صنعتیں لگی ہیں، ان کو فائدہ ہوگا اور نئی صنعتوں کو تقویت ملے گی۔ یہاں تیار ہونے والا صنعتی سامان  غیر ملکی بازاروں میں بھی بہت کمپٹیٹیو ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں یہاں کے بیمبو  پروڈکٹ کے لئے، اگربتی صنعت کے لئے، پائن ایپل سے  جڑے کاروبار کے لئے جو تحریک دی گئی ہے اس کو ان نئی سہولتوں سے مزید تقویت ملے گی۔

بھائیو اور بہنو،

اگر تلہ جیسے شہروں میں  آتم نربھر بھارت کےنئے  مراکز بننے کی صلاحیت  ہے۔ آج اگرتلہ کو بہتر شہر بنانے کے لئے  متعدد پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا جانا اور ان کے سنگ بنیاد رکھا جانا ایسی ہی کوششوں کا حصہ ہے۔ نیا تعمیر ہونے والا انٹیگریٹیڈ کمانڈ سینٹر، شہر کے انتظامات کو ایک مقام سے اسمارٹ ٹکنالوجی کے ذریعہ  ہینڈل کرنے میں مدد کرے گا۔ ٹریفک سے لیکر مسائل سے لیکر کرائم روکنے کے لئے  ایسے کئی طرح  کی افادیت کے لئے تکنیکی تعاون ملے گا۔ اسی طرح  ملٹی لیول پارکنگ، کمرشیل کمپلکس اور ایئر پورٹ کو کنکٹ کرنے والی سڑک  کو چوڑا کئے جانے سے  اگرتلہ میں زندگی گزارنے کی آسانی اور کاروبار کی آسانی  میں بہت بہتری آئے گی۔

بھائیو اور بہنو،

جب ایسے کام ہوتے ہیں تو ان کو سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے جن کو برسوں تک بھلایا گیا، جن کو اپنے حال پر جینے کے لئے مجبور کردیا گیا۔ چھوڑ دیا گیا۔ خاص طور پر ہمارے  قبائلی علاقوں میں رہنے والےہمارے تمام ساتھیوں اور  برو  پناہ گزینوں کو حکومت کے ایسے متعدد اقدامات سے فائدہ مل رہا ہے۔ تریپورہ کے برو پناہ گزینوں کے مسائل کو دور کرنے کے لئے  دہائیوں بعد  حل ہی  حکومت کی کوششوں سے ملا۔ ہزاروں برو ساتھیوں کی ترقی کے لئے  دیئے گئے 600 کروڑ روپے کے خصوصی پیکج سے ان کی زندگی میں بہت  مثبت تبدیلی آئے گی۔

ساتھیو،

جب گھر گھر پانی پہنچتا ہے، بجلی پہنچتی ہے،  صحت کی سہولتیں پہنچتی ہیں، تو ہمارے قبائلی علاقوں کو اس کا خاص فائدہ ہوتا ہے۔ یہی کام  مرکز اور تریپورہ کی حکومتیں مل کر آج کررہی ہیں۔ آگنی  ہافانگ ، تریپورہ ہاستینی، حکومو نو سیمی یا، کُرنگ بوروک بو، سُکولو گئی، تینیکھا۔ تریپورانی گُنانگ تیئی نائی تھوک، حکومو نو، چُنگ بوروم یافرنانی چیکھا، تیئی  کُرونگ  بوروک۔ روکنو بو، سوئی بوروم یافارکھا۔  اگرتلہ ایئرپورٹ کو مہاراج بیر بکرم کشور مانکیا کا نام دینا ترپورہ کی ترقی کے لئے ان کے وژن کا  احترام ہے۔تریپورہ کی مالا مال ثقافت اور  ادب کی خدمت کرنے والے سپوتوں، جناب تھنگا ڈورلانگ جی، جناب ستیہ رام ریانگ جی اور بینی چندر جماتیا جی کو پدم شری سے  نوازنے کا موقع بھی ہمیں ہی ملا ہے۔  ثقافت اور ادب کی اہم شخصتوں کی خدمات کے ہم سبھی مقروض ہیں۔ بینی  چند جماتیا جی ہم ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کا کام ہم سبھی کو ہمیشہ تحریک دیتا رہے گا۔

ساتھیو،

قبائلی دست کاری کو بیمبو پر مبنی آرٹ کو ، پردھان منتری ون دھن یوجنا  کے تحت فروغ دینے سے قبائلی بھائی بہنوں کو کمائی کے نئے ذرائع مل رہے ہیں۔  مجھے بتایا گیا ہے کہ ’مولی بیمبو کوکیز‘ کو پہلی بار پیکیجڈ پروڈکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا ہے۔ یہ  قابل تعریف کام ہے۔ ایسے کاموں کی توسیع سے لوگوں کی مالی مدد ہوگی۔ اس سال کے مرکزی بجٹ میں بھی  قبائلی علاقوں میں  ایکلویہ ماڈل اسکول اور دیگر جدید سہولتوں کے لئے  وسیع انتظامات کئے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے سال میں  تریپورہ حکومت ایسے ہی تریپورہ کے باشندوں کی خدمت کرتی رہے گی۔  میں بپلب جی اور ان کی پوری ٹیم کو  انتظامیہ کے تمام افسروں کو  عوام کی خدمت کے لئے تین سال جو انہوں نے محنت کی ہے، آنے والے وقت میں اس سے بھی زیادہ محنت کریں گے، زیادہ خدمت کریں گے۔ تریپورہ کا مقدر بدل کر رہیں گے۔ اسی یقین کے ساتھ میں پھر ایک بار آپ سب کو بہت بہت مبارکباد  دیتا ہوں۔ بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

شکریہ!

Explore More
وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن

Popular Speeches

وزیراعظم نریندر مودی کا 78 ویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کا متن
Snacks, Laughter And More, PM Modi's Candid Moments With Indian Workers In Kuwait

Media Coverage

Snacks, Laughter And More, PM Modi's Candid Moments With Indian Workers In Kuwait
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Joint Statement: Official visit of Shri Narendra Modi, Prime Minister of India to Kuwait (December 21-22, 2024)
December 22, 2024

At the invitation of His Highness the Amir of the State of Kuwait, Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah, Prime Minister of India His Excellency Shri Narendra Modi paid an official visit to Kuwait on 21-22 December 2024. This was his first visit to Kuwait. Prime Minister Shri Narendra Modi attended the opening ceremony of the 26th Arabian Gulf Cup in Kuwait on 21 December 2024 as the ‘Guest of Honour’ of His Highness the Amir Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah.

His Highness the Amir of the State of Kuwait Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah and His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Sabah Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah, Crown Prince of the State of Kuwait received Prime Minister Shri Narendra Modi at Bayan Palace on 22 December 2024 and was accorded a ceremonial welcome. Prime Minister Shri Narendra Modi expressed his deep appreciation to His Highness the Amir of the State of Kuwait Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah for conferring on him the highest award of the State of Kuwait ‘The Order of Mubarak Al Kabeer’. The leaders exchanged views on bilateral, global, regional and multilateral issues of mutual interest.

Given the traditional, close and friendly bilateral relations and desire to deepen cooperation in all fields, the two leaders agreed to elevate the relations between India and Kuwait to a ‘Strategic Partnership’. The leaders stressed that it is in line with the common interests of the two countries and for the mutual benefit of the two peoples. Establishment of a strategic partnership between both countries will further broad-base and deepen our long-standing historical ties.

Prime Minister Shri Narendra Modi held bilateral talks with His Highness Sheikh Ahmad Abdullah Al-Ahmad Al-Jaber Al-Mubarak Al-Sabah, Prime Minister of the State of Kuwait. In light of the newly established strategic partnership, the two sides reaffirmed their commitment to further strengthen bilateral relations through comprehensive and structured cooperation in key areas, including political, trade, investment, defence, security, energy, culture, education, technology and people-to-people ties.

The two sides recalled the centuries-old historical ties rooted in shared history and cultural affinities. They noted with satisfaction the regular interactions at various levels which have helped in generating and sustaining the momentum in the multifaceted bilateral cooperation. Both sides emphasized on sustaining the recent momentum in high-level exchanges through regular bilateral exchanges at Ministerial and senior-official levels.

The two sides welcomed the recent establishment of a Joint Commission on Cooperation (JCC) between India and Kuwait. The JCC will be an institutional mechanism to review and monitor the entire spectrum of the bilateral relations between the two countries and will be headed by the Foreign Ministers of both countries. To further expand our bilateral cooperation across various fields, new Joint Working Groups (JWGs) have been set up in areas of trade, investments, education and skill development, science and technology, security and counter-terrorism, agriculture, and culture, in addition to the existing JWGs on Health, Manpower and Hydrocarbons. Both sides emphasized on convening the meetings of the JCC and the JWGs under it at an early date.

Both sides noted that trade has been an enduring link between the two countries and emphasized on the potential for further growth and diversification in bilateral trade. They also emphasized on the need for promoting exchange of business delegations and strengthening institutional linkages.

Recognizing that the Indian economy is one of the fastest growing emerging major economies and acknowledging Kuwait’s significant investment capacity, both sides discussed various avenues for investments in India. The Kuwaiti side welcomed steps taken by India in making a conducive environment for foreign direct investments and foreign institutional investments, and expressed interest to explore investment opportunities in different sectors, including technology, tourism, healthcare, food-security, logistics and others. They recognized the need for closer and greater engagement between investment authorities in Kuwait with Indian institutions, companies and funds. They encouraged companies of both countries to invest and participate in infrastructure projects. They also directed the concerned authorities of both countries to fast-track and complete the ongoing negotiations on the Bilateral Investment Treaty.

Both sides discussed ways to enhance their bilateral partnership in the energy sector. While expressing satisfaction at the bilateral energy trade, they agreed that potential exists to further enhance it. They discussed avenues to transform the cooperation from a buyer-seller relationship to a comprehensive partnership with greater collaboration in upstream and downstream sectors. Both sides expressed keenness to support companies of the two countries to increase cooperation in the fields of exploration and production of oil and gas, refining, engineering services, petrochemical industries, new and renewable energy. Both sides also agreed to discuss participation by Kuwait in India's Strategic Petroleum Reserve Programme.

Both sides agreed that defence is an important component of the strategic partnership between India and Kuwait. The two sides welcomed the signing of the MoU in the field of Defence that will provide the required framework to further strengthen bilateral defence ties, including through joint military exercises, training of defence personnel, coastal defence, maritime safety, joint development and production of defence equipment.

The two sides unequivocally condemned terrorism in all its forms and manifestations, including cross-border terrorism and called for disrupting of terrorism financing networks and safe havens, and dismantling of terror infrastructure. Expressing appreciation of their ongoing bilateral cooperation in the area of security, both sides agreed to enhance cooperation in counter-terrorism operations, information and intelligence sharing, developing and exchanging experiences, best practices and technologies, capacity building and to strengthen cooperation in law enforcement, anti-money laundering, drug-trafficking and other transnational crimes. The two sides discussed ways and means to promote cooperation in cybersecurity, including prevention of use of cyberspace for terrorism, radicalisation and for disturbing social harmony. The Indian side praised the results of the fourth high-level conference on "Enhancing International Cooperation in Combating Terrorism and Building Resilient Mechanisms for Border Security - The Kuwait Phase of the Dushanbe Process," which was hosted by the State of Kuwait on November 4-5, 2024.

Both sides acknowledged health cooperation as one of the important pillars of bilateral ties and expressed their commitment to further strengthen collaboration in this important sector. Both sides appreciated the bilateral cooperation during the COVID- 19 pandemic. They discussed the possibility of setting up of Indian pharmaceutical manufacturing plants in Kuwait. They also expressed their intent to strengthen cooperation in the field of medical products regulation in the ongoing discussions on an MoU between the drug regulatory authorities.

The two sides expressed interest in pursuing deeper collaboration in the area of technology including emerging technologies, semiconductors and artificial intelligence. They discussed avenues to explore B2B cooperation, furthering e-Governance, and sharing best practices for facilitating industries/companies of both countries in the policies and regulation in the electronics and IT sector.

The Kuwaiti side also expressed interest in cooperation with India to ensure its food-security. Both sides discussed various avenues for collaboration including investments by Kuwaiti companies in food parks in India.

The Indian side welcomed Kuwait’s decision to become a member of the International Solar Alliance (ISA), marking a significant step towards collaboration in developing and deploying low-carbon growth trajectories and fostering sustainable energy solutions. Both sides agreed to work closely towards increasing the deployment of solar energy across the globe within ISA.

Both sides noted the recent meetings between the civil aviation authorities of both countries. The two sides discussed the increase of bilateral flight seat capacities and associated issues. They agreed to continue discussions in order to reach a mutually acceptable solution at an early date.

Appreciating the renewal of the Cultural Exchange Programme (CEP) for 2025-2029, which will facilitate greater cultural exchanges in arts, music, and literature festivals, the two sides reaffirmed their commitment on further enhancing people to people contacts and strengthening the cultural cooperation.

Both sides expressed satisfaction at the signing of the Executive Program on Cooperation in the Field of Sports for 2025-2028. which will strengthen cooperation in the area of sports including mutual exchange and visits of sportsmen, organising workshops, seminars and conferences, exchange of sports publications between both nations.

Both sides highlighted that education is an important area of cooperation including strengthening institutional linkages and exchanges between higher educational institutions of both countries. Both sides also expressed interest in collaborating on Educational Technology, exploring opportunities for online learning platforms and digital libraries to modernize educational infrastructure.

As part of the activities under the MoU between Sheikh Saud Al Nasser Al Sabah Kuwaiti Diplomatic Institute and the Sushma Swaraj Institute of Foreign Service (SSIFS), both sides welcomed the proposal to organize the Special Course for diplomats and Officers from Kuwait at SSIFS in New Delhi.

Both sides acknowledged that centuries old people-to-people ties represent a fundamental pillar of the historic India-Kuwait relationship. The Kuwaiti leadership expressed deep appreciation for the role and contribution made by the Indian community in Kuwait for the progress and development of their host country, noting that Indian citizens in Kuwait are highly respected for their peaceful and hard-working nature. Prime Minister Shri Narendra Modi conveyed his appreciation to the leadership of Kuwait for ensuring the welfare and well-being of this large and vibrant Indian community in Kuwait.

The two sides stressed upon the depth and importance of long standing and historical cooperation in the field of manpower mobility and human resources. Both sides agreed to hold regular meetings of Consular Dialogue as well as Labour and Manpower Dialogue to address issues related to expatriates, labour mobility and matters of mutual interest.

The two sides appreciated the excellent coordination between both sides in the UN and other multilateral fora. The Indian side welcomed Kuwait’s entry as ‘dialogue partner’ in SCO during India’s Presidency of Shanghai Cooperation Organisation (SCO) in 2023. The Indian side also appreciated Kuwait’s active role in the Asian Cooperation Dialogue (ACD). The Kuwaiti side highlighted the importance of making the necessary efforts to explore the possibility of transforming the ACD into a regional organisation.

Prime Minister Shri Narendra Modi congratulated His Highness the Amir on Kuwait’s assumption of the Presidency of GCC this year and expressed confidence that the growing India-GCC cooperation will be further strengthened under his visionary leadership. Both sides welcomed the outcomes of the inaugural India-GCC Joint Ministerial Meeting for Strategic Dialogue at the level of Foreign Ministers held in Riyadh on 9 September 2024. The Kuwaiti side as the current Chair of GCC assured full support for deepening of the India-GCC cooperation under the recently adopted Joint Action Plan in areas including health, trade, security, agriculture and food security, transportation, energy, culture, amongst others. Both sides also stressed the importance of early conclusion of the India-GCC Free Trade Agreement.

In the context of the UN reforms, both leaders emphasized the importance of an effective multilateral system, centered on a UN reflective of contemporary realities, as a key factor in tackling global challenges. The two sides stressed the need for the UN reforms, including of the Security Council through expansion in both categories of membership, to make it more representative, credible and effective.

The following documents were signed/exchanged during the visit, which will further deepen the multifaceted bilateral relationship as well as open avenues for newer areas of cooperation:● MoU between India and Kuwait on Cooperation in the field of Defence.

● Cultural Exchange Programme between India and Kuwait for the years 2025-2029.

● Executive Programme between India and Kuwait on Cooperation in the field of Sports for 2025-2028 between the Ministry of Youth Affairs and Sports, Government of India and Public Authority for Youth and Sports, Government of the State of Kuwait.

● Kuwait’s membership of International Solar Alliance (ISA).

Prime Minister Shri Narendra Modi thanked His Highness the Amir of the State of Kuwait for the warm hospitality accorded to him and his delegation. The visit reaffirmed the strong bonds of friendship and cooperation between India and Kuwait. The leaders expressed optimism that this renewed partnership would continue to grow, benefiting the people of both countries and contributing to regional and global stability. Prime Minister Shri Narendra Modi also invited His Highness the Amir of the State of Kuwait, Sheikh Meshal Al-Ahmad Al-Jaber Al-Sabah, Crown Prince His Highness Sheikh Sabah Al-Khaled Al-Sabah Al-Hamad Al-Mubarak Al-Sabah, and His Highness Sheikh Ahmad Abdullah Al-Ahmad Al-Jaber Al-Mubarak Al-Sabah, Prime Minister of the State of Kuwait to visit India.