Quote‘‘نالندہ بھارت کی تعلیمی وراثت اور گرم جوشانہ ثقافتی تبادلے کی ایک علامت ہے’’
Quote‘‘نالندہ محض ایک نام نہیں ہے ۔نالندہ ایک شناخت ،ایک اعزاز،ایک قدر ، ایک منتر ، ایک فخر اورایک طویل داستان ہے ’’
Quote‘‘یہ احیاء بھارت کے لئے ایک سنہرا دورشروع کرنے والاہے ’’
Quote‘‘نالندہ بھار ت کے ماضی کی محض ایک نشاط الثانیہ نہیں ہے ۔دنیا اورایشیا کے بہت سے ملکوں کی وراثت اس کے ساتھ وابستہ ہے ’’
Quote‘‘بھار ت صدیوں سے ایک ماڈل کے طورپر پائیدار رہاہے اور اس کا مظاہرہ کیاہے ۔ہم ترقی اورماحولیات دونوں کے ساتھ توازن قائم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں ’’
Quote‘‘میرامشن ہے کہ بھارت، دنیا کے لئے تعلیم اورعلم ودانش کا ایک مرکز بنے۔میرامشن ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے امتیازی علم ودانش کے مرکز کے طورپرایک بارپھر تسلیم کیاجائے ’’
Quote‘‘ہماری کوشش ہے کہ بھارت میں دنیا کی سب سے جامع اور مکمل ترین ہنرمندی کا نظام کاقائم کیاجائے اوربھارت میں دنیا کا جدیدترین تحقیق پرمبنی اعلیٰ تعلیمی نظام قائم کیاجائے ’’
Quote‘‘میرااعتماد ہے کہ نالندہ عالمی کاز کاایک اہم مرکز بنے گا’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بہارمیں راجگیرکے مقام پر نالندہ یونیورسٹی کے نئے کیمپس کا افتتاح کیا۔ اس یونیورسٹی کا تصور، ہندوستان اور مشرقی ایشیا سمٹ (ای اے ایس ) ممالک کے درمیان اشتراک کے طور پر کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں 17 ممالک کے  مشنز کے سربراہان  سمیت کئی ناموراورسرکردہ  افراد نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے  اس موقع پر ایک پودا بھی لگایا۔

وزیر اعظم نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ، تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم کے طور پر حلف لینے کے 10 دنوں کے اندر  اندرنالندہ کا دورہ کرنے پرخوشی کااظہارکیااور اپنی خوش قسمتی کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ یہ ہندوستان کے ترقی کے سفر کی جانب  ایک مثبت اشارہ ہے۔ وزیر اعظم نے  زوردیکرکہا ‘‘نالندہ محض ایک نام نہیں ہے، یہ ایک شناخت ہے، ایک احترام ہے۔ نالندہ بنیاد ہے، یہ  منتر ہے۔ نالندہ اس سچائی کا اعلان ہے کہ علم ودانش  کو تباہ نہیں کیا جاسکتا چاہے کتابیں آگ میں جل جائیں’’۔ انہوں نے اس بات کو اجاگرکیا کہ نئی نالندہ یونیورسٹی کا قیام ہندوستان کے سنہری دور کا آغاز کرے گا۔

 

|

وزیر اعظم نے کہا کہ نالندہ کے قدیم کھنڈرات کے قریب ہی  اس  کا احیاء،ہندوستان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے متعارف کرائے گا کیونکہ یہ دنیا کو بتائے گا کہ مستحکم انسانی اقدار کی حامل قومیں، تاریخ کو نئی شکل دے کر ایک بہتر دنیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جناب مودی نے  اس بات پرزور دیا کہ نالندہ دنیا، ایشیا اور بہت سے ممالک کے ورثے کی حامل  ہے اور اس کا احیاء صرف ہندوستانی پہلوؤں کے احیاء تک ہی محدود نہیں ہے۔ ۔ انہوں نے نالندہ پروجیکٹ میں دوست ممالک کے تعاون کو تسلیم  کرتے ہوئے کہا  کہ یہ بات آج کی افتتاحی تقریب میں بہت سارے ممالک کی موجودگی سے ظاہر ہوتی ہے انہوں نے بہار کے لوگوں کی اس شان کو واپس لانے کے عزم کے لئے بھی ان کی  ستائش کی جس کی عکاسی  نالندہ میں ہوتی ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ نالندہ کبھی ہندوستان کی ثقافت اور روایات کامعرو ف  مرکز تھا، وزیر اعظم نے کہا کہ نالندہ کا مطلب علم  ودانش اور تعلیم کا مسلسل بہاؤ ہے اور تعلیم کے تئیں یہی ہندوستان کا نقطہ نظر اور سوچ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے  کہ قدیم نالندہ یونیورسٹی میں طلباء کو ان کی شناخت اور قومیتوں سے قطع نظر داخلہ دیا جاتا تھا،کہا کہ‘‘تعلیم سرحدوں سے بالاتر ہے۔ یہ اقدار اور سوچ کی تلقین کرتی  ہے۔’’ انہوں نے نئے افتتاح شدہ نالندہ یونیورسٹی کیمپس میں انہی قدیم روایات کو جدید شکل میں مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ 20 سے زیادہ ممالک کے طلباء پہلے ہی نالندہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور کہا کہ یہ ‘واسودھئیو کٹمبکم’ کی بہترین مثال ہے۔

 

|

وزیر اعظم نے تعلیم کو انسانی فلاح و بہبود کے ایک وسیلے کے طور پرسمجھنے  کی ہندوستانی روایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آنے والے  یوگ کے بین الاقوامی دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوگ کا یہ  دن ایک بین الاقوامی تہوار بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوگ کے بہت سارے سلسلے تیار کرنے کے باوجود، ہندوستان میں کسی نے بھی یوگ پر اجارہ داری کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ہندوستان نے آیوروید کو پوری دنیا کے ساتھ ساجھا کیا۔ وزیراعظم  مودی نے پائیداری کے تئیں ہندوستان کی لگن کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ہندوستان میں ہم ترقی اورماحولیات دونوں کے ساتھ توازن قائم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔اس سے ہندوستان کو مشن لائف  اوربین الاقوامی شمسی اتحاد  جیسی پہل قدمیاں  فراہم کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ  نالندہ کیمپس اپنے پہل کار، خالص صفرتوانائی  ،خالص صفراخراجات،خالص صفر پانی ،اورخالص صفر فضلے کے ماڈل کے ساتھ  پائیداری کے جذبے کو آگے بڑھائے گا۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی ترقی سے معیشت اور ثقافت کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ یہ بات   عالمی تجربے اورترقی یافتہ ممالک کے  تجربے سے ظاہر ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘ہندوستان جو 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے اپنے ہدف پر کام کر رہا ہے وہ اپنے تعلیمی نظام کویکسر تبدیل کرتے ہوئے اس کی کایاپلٹ کررہاہے’’۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا مشن یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کے لیے تعلیم اور علم ودانش کا مرکز بنے۔ میرامشن ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے امتیازی علم ودانش کے مرکز کے طورپرایک بارپھر تسلیم کیاجائے۔وزیر اعظم نے ایک کروڑ سے زیادہ بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی اٹل ٹنکرنگ لیبز، چندریان اور گگن یان سے  تقویت پانے  والی سائنس میں دلچسپی اور اسٹارٹ اپ انڈیا جیسی پہل قدمیوں کو اجاگرکیا،جن کی وجہ سے اب ہندوستان میں   1.30 لاکھ اسٹارٹ اپ ہوگئے ہیں جب کہ 10 سال پہلے سے  ملک میں محض  چندسواسٹارٹ اپس تھے۔

 

|

وزیر اعظم نے دنیا کے جدید ترین تحقیق پر مبنی اعلیٰ تعلیمی نظام کے ساتھ سب سے زیادہ جامع اور مکمل ہنر مندی کا نظام بنانے کی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عالمی درجہ بندی میں ہندوستان کییونیورسٹیوں کی بہتر کارکردگی کا بھی ذکر کیا۔ پچھلے 10 سالوں میں تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کے شعبے  میں حالیہ کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے کیو ایس  درجہ بندی میں ہندوستانی تعلیمی اداروں کی تعداد 9  بڑھ  46 اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکنگ میں 13 سے بڑھ کر 100 تک پہنچنے کا ذکر کیا۔  ہندوستان میں پچھلے 10 سالوں میں وزیر اعظم نے بتایا کہ ہر ہفتے ایکیونیورسٹی قائم کی گئی ہے، ہر روز ایک نیا آئی ٹی آئی قائم  کیا گیا ہے، ہر تیسرے دن ایک اٹل ٹنکرنگ لیب کھولی گئی ہے، اور ہر روز دو نئے کالج قائم ہوئے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں آج 23 آئی ٹی آئیزہیں ۔آئی آئی ایم کی تعداد 13 سے بڑھ کر 21 ہو گئی ہے اور ایمس کی تعداد تقریباً تین گنا بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ ’’ 10 سالوں میں، میڈیکل کالجوں کی تعداد بھی تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔‘‘ تعلیمی شعبے میں اصلاحات پربات کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے نئی تعلیمی پالیسی کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نے ہندوستان کے نوجوانوں کے خوابوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ جناب مودی نے ہندوستانی اور غیر ملکییونیورسٹیوں کے درمیان تعاون  اور ڈیکن اور وولونگونگ جیسے بین الاقوامییونیورسٹیوں کے لئے نئے کیمپس کھولنے کا بھی ذکر کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ’’ ان تمام کوششوں سے، ہندوستانی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ہندوستان میں بہترین تعلیمی ادارے مل رہے ہیں۔ اس سے ہمارے متوسط ​​طبقےکے پیسے بھی بچ رہے ہیں۔

  حال  ہی میں اہم   ہندوستانی اداروں کے عالمی کیمپس کے افتتا ح کا  ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نالندہ کے لیے بھی اسی امید کا اظہار کیا۔

 

|

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی نظریں ہندوستان کے نوجوانوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ ہندوستان بھگوان بدھ کا ملک ہے، اور دنیا جمہوریت کی ماں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتی ہے۔ وزیر اعظم نے آگے کہا کہ ’’جب ہندوستان ’ایک زمین، ایک خاندان، اور ایکمستقبل‘ کہتا ہےتو  دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ جب ہندوستان کہتا ہے ’ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ‘ کہتا ہے ، تو اسے دنیا کے لیے مستقبل کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ہندوستان ایک زمین ایک صحت کہتا ہے تو دنیا اس کے خیالات کا احترام کرتی ہے اور اسے قبول کرتی ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ نالندہ کی سرزمین عالمگیر بھائی چارے کے اس احساس کو ایک نئی جہت دے سکتی ہے۔ اس لیے نالندہ کے طلبہ کی ذمہ داری اور بھی زیادہ ہے۔

نالندہ کے طلباء اور اسکالرز کو ہندوستان کا مستقبل قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے امرت کال کے اگلے 25 سالوں کی اہمیت پر زور دیا اور ان سے نالندہ کے راستے اور اقدار کو اپنے ساتھ لے جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ متجسس بنیں، بہادر بنیں اور سب سے بڑھ کر مہربان بنیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے کام کرنے کو کہا۔

 

|

وزیر اعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نالندہ کا علم انسانیتکی رہنمائی  کرے گا اور آنے والے وقت میں یہاں کے نوجوانپوری دنیا کی قیادت کریں گے۔  وزیر  اعظم نے یہ کہہ کر اپنی بات ختم کی کہ’’ مجھے یقین ہے کہ نالندہ عالمی مقصد کے لیے ایک اہم مرکز بنے گا‘‘۔

اس موقع  پر بہار کے گورنر جناب راجندر ارلیکر، بہار کے وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار، امور خارجہ کے مرکزی وزیر ڈاکٹر سبرامنیم جئے شنکر، امور خارجہ کے مرکزی وزیر مملکتجناب  پبیترا مارگریٹا، بہار کے نائب وزرائے اعلیٰ جناب وجے کمار سنہا اور  جناب سمراٹ چودھری ، نالندہ یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر اروند پپنگڑیا   اور نالندہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ابھے کمار سنگھ سمیت  دیگر معززین موجود تھے۔

 

|

پس منظر

 

نالندہ یونیورسٹی کیمپس میں 40 کلاس روم والے  دو اکیڈمک بلاکس ہیں، جن کی کل بیٹھنے کی گنجائش تقریباً 1900 ہے۔ اس میں300 سیٹوں  کی گنجائش  والے دو آڈیٹوریم، تقریباً 550 طلباء کی گنجائش  والے ایک اسٹوڈنٹ ہاسٹل  اورمتعدد دیگر سہولیات ہیں جن میں  ایک بین الاقوامی  سینٹر، 2000 افراد  تک کی گنجائش  والا  ایک ایمفی تھیٹر،  ایک فیکلٹی کلب اور ایک اسپورٹس کمپلیکسشامل ہے۔

 

|

 یہ کیمپس’ایک نیٹ زیرو‘گرین کیمپس ہے۔ یہ سولر پلانٹ، گھریلو اور پینے کے پانی کی صفائی کے پلانٹ، گندے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کے لیے پانی کی ری سائیکلنگ پلانٹ، 100 ایکڑ میں آبی ذخائر، اور بہت سی دیگر ماحول دوست سہولیات کے ساتھ خود کفیل  ہے۔

یونیورسٹی کا تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ تقریباً 1600 سال قبل قائم ہونے والی اصل نالندہ یونیورسٹی کو دنیا کی پہلی رہائشییونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نالندہ کے کھنڈرات کو 2016 میں اقوام متحدہ کی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔

 

Click here to read full text speech

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  • Reena chaurasia September 09, 2024

    जय हो
  • Vijay Kumar Singh September 08, 2024

    https://www.facebook.com/JanJanKiBaat1/videos/952500529686544/. मैं सब परिवार के साथ आत्महत्या कर लूंगा इसका जवाब पुलिस प्रशासन बिहार सरकार और भारत सरकार होंगे https://x.com/VijayKu92645728/status/1807448383562371250?t=uzOG0Q8g0pwmL5vqe3Q-lA&s=08 https://youtu.be/oRsNpgebKew?si=VE6dadRD4EqMEqIM https://x.com/i/broadcasts/1MYxNowjNeVKw?t=YhEiX25C2EgVx1rP5KMkBA&s=08
  • Vivek Kumar Gupta September 02, 2024

    नमो ..🙏🙏🙏🙏🙏
  • Vivek Kumar Gupta September 02, 2024

    नमो ...................... 🙏🙏🙏🙏🙏
  • Aseem Goel August 26, 2024

    Jai Sri ram
  • Sandeep Pathak August 22, 2024

    jai shree Ram
  • ओम प्रकाश सैनी August 19, 2024

    ram ram
  • ओम प्रकाश सैनी August 19, 2024

    ram ji
  • ओम प्रकाश सैनी August 19, 2024

    Ram
  • Rajpal Singh August 10, 2024

    🙏🏻🙏🏻
Explore More
ہر ہندوستانی کا خون ابل رہا ہے: من کی بات میں پی ایم مودی

Popular Speeches

ہر ہندوستانی کا خون ابل رہا ہے: من کی بات میں پی ایم مودی
Manufacturing, consumer goods lift India's July IIP growth to 3.5%

Media Coverage

Manufacturing, consumer goods lift India's July IIP growth to 3.5%
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India is the springboard for Japanese businesses to the Global South: PM Modi in Tokyo
August 29, 2025

Your Excellency Prime Minister Ishiba,
Business leaders from India and Japan,
Ladies and Gentlemen,
Namaskar

Konnichiwa!

I just arrived in Tokyo this morning. I am very happy that my trip is starting with the giants of the business world.

I personally know many of you. Whether it was during my time in Gujarat, or after moving to Delhi. I’ve had close connections with many of you. I’m really glad to have this opportunity to meet you all today.

I especially thank Prime Minister Ishiba for joining this forum. I congratulate him for his valuable remarks.

|

Friends,

Japan has always been a key partner in India’s growth journey. Whether it’s metros, manufacturing, semiconductors, or start-ups, our partnership in every area reflects mutual trust.

Japanese companies have invested more than $40 billion in India. In the last two years alone, there has been private investment of $13 billion. JBIC says India is the most 'promising' destination. JETRO says 80 percent of companies want to expand in India, and 75 percent are already profitable.

Which means, in India, capital does not just grow, it multiplies!

Friends,

You are all familiar with the remarkable changes India has experienced in the last eleven years. Today, we have political and economic stability, and clear and predictable policies. India is now the fastest-growing major economy in the world, and very soon, it will become the world’s third-largest economy.

India is contributing to 18% of global growth. The country’s capital markets are giving good returns, and we have a strong banking sector. Inflation and interest rates are low, and foreign exchange reserves stand at around $700 billion.

Friends,

Behind this change is our approach of ‘Reform, Perform, and Transform.’ In 2017, we introduced "One Nation–One Tax”, and now we are working on bringing in new and bigger reforms in it. A few weeks ago, our Parliament has also approved the new and simplified Income Tax code.

Our reforms are not limited to the tax system alone. We have emphasized on ease of doing business. We have established a single digital window approval for businesses. We have rationalized 45,000 compliances. A high-level committee on de-regulation has been formed to speed up this process.

Sensitive sectors like Defence and Space have been opened up to the private sector. Now, we are also opening up the nuclear energy sector.

|

Friends,

These reforms reflect our determination to build a developed India. We have the commitment, the conviction, and the strategy, and the world has not just recognized it but also appreciated it. S&P Global has upgraded India's credit rating after two decades.

The world is not just watching India, it is counting on India.

Friends,

The India-Japan Business Forum report has just been presented, detailing the business deals between our companies. I congratulate all of you for on this remarkable progress. I would also like to humbly offer a few suggestions for our partnership.

The first is manufacturing. Our partnership in the auto sector has been extremely successful. And the Prime Minister described it in great detail. Together, we can replicate the same magic in batteries, robotics, semi-conductors, ship-building and nuclear energy. Together, we can make a significant contribution to the development of the Global South, especially Africa.

I urge all of you: Come, Make in India, Make for the World. The success stories of Suzuki and Daikin can become your success stories too.

Second, is technology and innovation. Japan is a "Tech Powerhouse". And, India is a "Talent Powerhouse". India has taken bold and ambitious initiatives in AI, Semiconductors, Quantum computing, Biotech, and Space. Japan's technology and India's talent together can lead the tech revolution of this century.

The third area is the Green Energy Transition. India is quickly moving towards 500 GW of renewable energy by 2030. We also aim for 100 GW of nuclear power by 2047. From solar cells to green hydrogen, there are huge opportunities for partnership.

|

An agreement has been reached between India and Japan on Joint Credit Mechanism. This can be used to cooperate in building a clean and green future.

Fourth, is Next-Gen Infrastructure. In the last decade, India has made unprecedented progress in next generation mobility, and logistics infrastructure. The capacity of our ports has doubled. There are more than 160 airports. Metro lines of a 1000 km have been built. Work is also underway on the Mumbai-Ahmedabad high-speed rail in cooperation with Japan.

But our journey does not stop here. Japan's excellence and India's scale can create a perfect partnership.

Fifth is Skill Development and People-to-People Ties. The talent of India's skilled youth has the potential to meet global needs. Japan can also benefit from this. You could train Indian talent in Japanese language and soft skills, and together create a "Japan-ready" workforce. A shared workforce will lead to shared prosperity.

Friends,

In the end I would like to say this - India and Japan’s partnership is strategic and smart. Powered by economic logic, we have turned shared interests into shared prosperity.

India is the springboard for Japanese businesses to the Global South. Together, we will shape the Asian Century for stability, growth, and prosperity.

With these words, I express my gratitude to Prime Minister Ishiba and all of you.

Arigatou Gozaimasu!
Thank you very much.